وزیراعظم نے کراچی کینٹ اسٹیشن پر جدید شالیمار ایکسپریس اور نئی سہولیات کا افتتاح کر دیا

وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کے روز کراچی کینٹ ریلوے اسٹیشن پر اپ گریڈ شدہ شالیمار ایکسپریس اور جدید سہولیات کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ریلوے کی ڈیجیٹائزیشن اور جدید خطوط پر بہتری ملک کی معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

وزیراعظم نے اپنے دورے کے دوران نئے تعمیر شدہ ویٹنگ ایریا، سی آئی پی لاؤنج، ڈائننگ ہال اور کمپیوٹرائزڈ ٹکٹنگ سسٹم کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر وفاقی وزرا، ریلوے کے اعلیٰ حکام، ریلوے پولیس کے سربراہ کے ساتھ ساتھ غیر ملکی سفارتکار اور اراکینِ پارلیمنٹ بھی موجود تھے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت سندھ حکومت کے ساتھ مل کر کراچی سرکلر ریلوے (کے سی آر) سمیت صوبے اور ملک بھر کے ریلوے اسٹیشنز کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریلوے کے وزیر حنیف عباسی نے عہدہ سنبھالتے ہی ریلوے نظام کو بہتر بنانے کے لیے تیز رفتار اقدامات کیے، جس کا نتیجہ لاہور اسٹیشن کی بحالی اور اب کراچی کینٹ اسٹیشن کی جدید تعمیر کی صورت میں سامنے آیا ہے۔

وزیراعظم نے کراچی کو پاکستان کی معیشت کا دل قرار دیتے ہوئے کہا کہ وفاق پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں کے ساتھ مل کر ریلوے نیٹ ورک کو مزید وسیع اور جدید بنانے کے منصوبوں پر کام جاری رکھے گا۔

انہوں نے بتایا کہ کراچی سے لاہور کے درمیان چلنے والی شالیمار ایکسپریس کو مکمل طور پر اپ گریڈ کر کے نئی شکل میں چلایا جا رہا ہے۔ وزیراعظم نے حنیف عباسی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں ’’آج کی تقریب کا ہیرو‘‘ قرار دیا اور کہا کہ تمام ریلوے اسٹیشنز کی جدید کاری مکمل ہونے کے بعد وہ ان کے لیے صدارتی ایوارڈ کی سفارش کریں گے۔

وزیراعظم نے وسطی ایشیا تک ریلوے کنیکٹیویٹی بڑھانے — خصوصاً ازبکستان، افغانستان اور پاکستان کو ملا نے والی ریلوے لائن کا بھی ذکر کیا اور اسلام آباد تا استنبول ٹرین سروس کی بحالی کی خواہش ظاہر کی۔ انہوں نے بتایا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک سے 2 ارب ڈالر کے قرض کے لیے بھی بات چیت جاری ہے تاکہ ریلوے ڈھانچے کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی جانب سے کے سی آر کو سی پیک میں شامل کرنے کی درخواست پر وزیراعظم نے وعدہ کیا کہ اس منصوبے میں ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا، کیونکہ یہ کراچی کے لیے انتہائی اہم ٹرانزٹ منصوبہ ہے۔

اس سے قبل وزیر ریلوے حنیف عباسی نے بتایا کہ صرف آٹھ ماہ کے عرصے میں نمایاں بہتری آئی ہے، جس میں کراچی کینٹ اسٹیشن کی جدید تعمیر اور شالیمار ایکسپریس کی مکمل اپ گریڈیشن شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ روہڑی اسٹیشن کی بہتری پر ایک ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیں جبکہ کراچی سٹی اسٹیشن پر بھی کام جاری ہے۔ حکومتی پالیسی کے تحت 14 ٹرینیں آؤٹ سورس کی جا رہی ہیں اور ریلوے کے اسپتال اور اسکول نجی انتظامیہ کے سپرد کیے جا رہے ہیں، جبکہ ملازمین کے حقوق مکمل طور پر محفوظ رہیں گے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایم ایل۔ون منصوبے پر بھی پیش رفت ہو رہی ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے وزیراعظم کا کراچی آمد پر خیرمقدم کیا اور یقین دہانی کرائی کہ صوبائی حکومت ریلوے کی جدید کاری کے عمل میں مکمل تعاون کرے گی۔

More From Author

مرکز نے اب تک کراچی کیلئے کیے گئے 100 ارب روپے کے وعدے پورے نہیں کیے، ناصر حسین شاہ

دو مزید ججز وفاقی آئینی عدالت میں حلف اٹھا گئے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے