معدنی وسائل میں ’ٹرمپ کارڈ‘ کھیلنے کی تیاری

اسلام آباد:
پاکستان معدنیات کی تلاش کے اس ہائی اسٹیکس کھیل میں اپنا "ٹرمپ کارڈ” کھیلنے کے لیے تیار دکھائی دیتا ہے، جہاں دنیا کی بڑی طاقتیں اس کے وسیع مگر ابھی تک غیر استعمال شدہ ذخائر پر نظریں جمائے بیٹھی ہیں۔

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے دو شعبوں میں گہری دلچسپی ظاہر کی تھی – ڈیجیٹل کرنسی اور اسٹریٹیجک معدنیات – اور پاکستان نے خود کو ایک ممکنہ شراکت دار کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی۔ تاہم واشنگٹن اکیلا کھلاڑی نہیں۔ چین پہلے ہی بلوچستان کے سیندک تانبے اور سونے کے منصوبے پر برسوں سے کام کر رہا ہے، لیکن اس کی اصل پیداوار کے حوالے سے زیادہ تفصیلات منظرعام پر نہیں آئیں۔

حالیہ مہینوں میں پاکستان نے ایک بین الاقوامی معدنی کانفرنس کی میزبانی کی جس میں کئی ممالک کے سرمایہ کار شریک ہوئے۔ امریکہ اور چین دونوں بھرپور دلچسپی دکھا رہے ہیں، لیکن اب تک امریکی کوششیں زیادہ جارحانہ دکھائی دیتی ہیں۔ اسلام آباد کے حکام کا اندازہ ہے کہ پاکستان کے معدنی وسائل کی مالیت کم از کم 8 کھرب ڈالر ہے۔

امریکہ کا طریقۂ کار اس حوالے سے نیا نہیں۔ اس نے ماضی میں یوکرین کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا جس کے تحت فوجی اور اقتصادی امداد کو وہاں کے معدنی ذخائر، بالخصوص ریئر ارتھ منرلز میں بڑے حصے سے مشروط کیا گیا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان کو بھی اسی نوعیت کے مطالبات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، خاص طور پر تانبے اور سونے کے بڑے منصوبوں میں۔

پاکستان کی معدنیاتی حکمتِ عملی کا مرکز بلوچستان کے چاغی میں ریکوڈک منصوبہ ہے، جس کی مالیت اربوں ڈالر بتائی جاتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ نے اس منصوبے میں زیادہ دلچسپی نہیں دکھائی، لیکن سعودی عرب واضح طور پر سرمایہ کاری کے لیے تیار ہے۔ دوسری جانب چین کو ریکوڈک بیلٹ میں ایک اور بلاک دیا جا چکا ہے تاکہ وہ اپنے سیندک منصوبے کے ساتھ اسے بھی آگے بڑھا سکے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کو واشنگٹن، بیجنگ اور ریاض کی پیشکشوں کو انتہائی سوچ سمجھ کر توازن کے ساتھ آگے بڑھانا ہوگا تاکہ زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جا سکے۔ حال ہی میں پاکستان کو ریکوڈک کے لیے 5 ارب ڈالر کی فنانسنگ کی پیشکش ہوئی، جو مطلوبہ 3 ارب ڈالر سے کہیں زیادہ ہے۔ اسی کے ساتھ ایشیائی ترقیاتی بینک، اسلامی ترقیاتی بینک، انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن اور امریکی ایکزم بینک جیسے عالمی ادارے بھی سرمایہ کاری کی یقین دہانیاں کرا چکے ہیں، جبکہ جرمنی اور ڈنمارک نے بھی دلچسپی ظاہر کی ہے۔

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ پاکستان کو اپنی توجہ صرف ریکوڈک تک محدود نہیں رکھنی چاہیے۔ ملک میں تانبے، سونے، کوئلے، آئرن اوور، کرومائٹ اور قیمتی پتھروں کے وسیع ذخائر موجود ہیں جو معیشت کے لیے بڑے پیمانے پر تبدیلی لا سکتے ہیں۔ فی الحال معدنیات کا شعبہ مجموعی قومی پیداوار میں صرف 3.2 فیصد حصہ ڈالتا ہے، جبکہ عالمی تجارت میں پاکستان کی برآمدات کا حصہ نہ ہونے کے برابر، صرف 0.1 فیصد ہے۔

اس معمولی شراکت کے باوجود، پاکستان کی ارضیاتی ساخت بے حد مالا مال ہے۔ تقریباً 6 لاکھ مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلے ہوئے علاقے میں 92 معدنیات کی نشاندہی ہو چکی ہے جن میں سے 52 تجارتی پیمانے پر نکالی جا رہی ہیں۔ سالانہ پیداوار تقریباً 6 کروڑ 85 لاکھ میٹرک ٹن ہے، جسے 5 ہزار کانوں اور 50 ہزار چھوٹی بڑی صنعتوں کے ذریعے نکالا جاتا ہے۔ اس شعبے میں براہ راست 3 لاکھ افراد کو روزگار حاصل ہے۔

پاکستان کے سب سے نمایاں معدنی خزانوں میں دنیا کی دوسری بڑی نمک کی کانیں، تانبے اور سونے کے پانچویں بڑے ذخائر اور وافر کوئلہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ باکسائٹ، جپسم اور قیمتی پتھر جیسے یاقوت، ٹوپاز اور زمرد بھی موجود ہیں جو عالمی منڈیوں میں بھاری طلب رکھتے ہیں۔ پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ اس دولت کو بروئے کار لانے کے لیے سرمایہ، ٹیکنالوجی اور مہارت کہاں سے لاتا ہے۔ بڑی طاقتیں اب واضح طور پر متحرک ہیں، اور یہی وقت ہے کہ اسلام آباد اپنی شرائط پر سودے کرے۔ اگر دانشمندی سے فیصلے کیے گئے تو یہ وسائل پاکستان کی معیشت کا نقشہ بدل سکتے ہیں

More From Author

پاکستانی وزیر داخلہ کا دعویٰ: چھ بھارتی طیارے مار گرائے گئے

کے لیے وزراء کو بھیج دیا، ہلاکتوں کی تعداد 323 تک پہنچ گئی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے