اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے عدالتی نظام میں تاخیر کے مسئلے پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی، خصوصاً مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کے فوری استعمال پر زور دیا ہے تاکہ ملک میں انصاف کی فراہمی کو تیز اور مؤثر بنایا جا سکے۔
جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عائشہ ملک نے ایک تفصیلی تحریری فیصلے میں واضح کیا کہ انصاف میں تاخیر محض ملتوی ہونے کا نام نہیں بلکہ اکثر یہ انصاف کی عدم فراہمی کے مترادف ہوتی ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ایسے رویے سے نہ صرف افراد متاثر ہوتے ہیں بلکہ عوام کا عدلیہ پر اعتماد بھی مجروح ہوتا ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ طویل مقدمہ بازی کے اثرات معاشرے پر نہایت منفی پڑتے ہیں، بالخصوص ان کمزور اور پسماندہ طبقات پر جو لمبے عرصے تک جاری رہنے والے مقدمات کے اخراجات برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔ عدالت نے متنبہ کیا کہ تاخیر سے انصاف نہ صرف قانون کی حکمرانی کو کمزور کرتا ہے بلکہ سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی اور عدلیہ کی ادارہ جاتی ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔
سپریم کورٹ نے اعداد و شمار بھی جاری کیے جن کے مطابق ملک بھر کی عدالتوں میں اس وقت 22 لاکھ سے زائد مقدمات زیرِ سماعت ہیں جبکہ صرف سپریم کورٹ میں تقریباً 56 ہزار مقدمات ابھی تک حل طلب ہیں۔
عدالت نے فوری طور پر ایک جدید، جواب دہ اور ٹیکنالوجی پر مبنی کیس مینجمنٹ سسٹم اپنانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ڈیجیٹل ٹولز اور مصنوعی ذہانت کے استعمال سے انصاف کی بروقت اور شفاف فراہمی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سپریم کورٹ کی پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی نے 2025 کے لیے نیا طریقہ کار نافذ کیا ہے۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس میں اس فریم ورک کی منظوری دی گئی، جو اب سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023 کے تحت نافذ العمل ہے۔
اس کمیٹی میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے ساتھ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس امین الدین خان شامل ہیں۔ سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق چیف جسٹس کو اختیار ہوگا کہ وہ کمیٹی اجلاس حضوری یا ورچوئل کسی بھی صورت میں طلب کر سکیں۔ عدلیہ میں تاخیر کے باعث بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ کے پیشِ نظر، سپریم کورٹ کی مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور ایک اہم پیش رفت تصور کی جا رہی ہے—ایک ایسا اقدام جو اگر مؤثر طور پر نافذ ہو گیا تو مستقبل میں انصاف کے نظام کا نقشہ بدل سکتا ہے