اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا پارلیمانی عمل سے انخلا اب سینیٹ تک پہنچ گیا ہے، جہاں جماعت سے وابستہ سینیٹرز نے پارٹی بانی عمران خان کی ہدایت پر مختلف قائمہ کمیٹیوں سے استعفے دینا شروع کر دیے ہیں۔
گزشتہ ہفتے قومی اسمبلی کی کمیٹیوں سے کئی ارکان کے علیحدہ ہونے کے بعد، سینیٹر مرزا محمد آفریدی نے پانچ اہم قائمہ کمیٹیوں — تجارت، صنعت و پیداوار، تعلیم، توانائی اور بین الصوبائی رابطہ — سے استعفے کی تصدیق کی۔
انہوں نے ایک مختصر بیان میں کہا، "میں پارٹی بانی کی ہدایت پر اپنی کمیٹیوں کی رکنیت چھوڑ رہا ہوں۔”
ان کے بعد سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر سینیٹر اعظم خان سواتی نے بھی کابینہ، اقتصادی امور، صحت، قانون و انصاف اور قواعد و ضوابط سے متعلق پانچ کمیٹیوں کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔
ایک سخت لہجے کے بیان میں سواتی نے کہا کہ یہ اقدام موجودہ پارلیمانی نظام کے خلاف احتجاج ہے۔ ان کا کہنا تھا، "یہ استعفے اس نظام کے خلاف علامتی احتجاج ہیں جو آئینی حکمرانی اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے میں ناکام ہو چکا ہے۔” انہوں نے مزید بتایا کہ استعفے سینیٹ میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر علی ظفر کے ذریعے چیئرمین سینیٹ کو بھجوائے گئے ہیں۔
یہ پیش رفت ایک روز بعد سامنے آئی جب عمران خان نے تمام پی ٹی آئی سینیٹرز کو اپنی قائمہ کمیٹیوں سے الگ ہونے کی ہدایت دی تھی۔
یاد رہے کہ اس سے قبل قومی اسمبلی میں بھی پی ٹی آئی ارکان نے اجتماعی طور پر استعفے دینے کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ پہلا نمایاں استعفیٰ جنید اکبر کا تھا، جنہوں نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کی چیئرمینی سے علیحدگی اختیار کی۔ اس کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے 18 استعفے اسپیکر قومی اسمبلی کے دفتر میں جمع کروائے۔ پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے بھی پی اے سی اور اطلاعات کی قائمہ کمیٹی سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق سینیٹ میں استعفوں کا یہ سلسلہ پی ٹی آئی کی اس وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کے تحت جماعت اس پارلیمانی ڈھانچے کو مسترد کر رہی ہے، جسے وہ غیر شفاف اور غیر آئینی قرار دیتی ہے۔ اس اقدام سے پارٹی مزید ادارہ جاتی فیصلہ سازی کے عمل سے الگ تھلگ ہو جائے گی۔