سیلاب سے ہزارہ میں تعلیمی ادارے اور انفراسٹرکچر تباہ

ایبٹ آباد:
خیبر پختونخوا کے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم نے ہزارہ ڈویژن میں حالیہ بارشوں اور طغیانی سے پیدا ہونے والی صورتحال پر تفصیلی رپورٹ جاری کی ہے، جس میں سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے سے ہونے والی بڑے پیمانے پر تباہی کا ذکر کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایبٹ آباد، مانسہرہ اور بٹگرام میں مجموعی طور پر سات اسکول مکمل طور پر تباہ ہوگئے، جن میں چار پرائمری، دو مڈل اور ایک ہائی اسکول شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 638 تعلیمی ادارے جزوی طور پر متاثر ہوئے۔

ایبٹ آباد میں ایک طالبہ جاں بحق ہوئی جبکہ ایک استاد اور ایک اور طالبعلم زخمی ہوا۔ ضلع میں تین لڑکوں کے اسکول مکمل طور پر گر گئے، جن میں دو پرائمری اور ایک مڈل اسکول شامل ہے، جبکہ 11 مزید ادارے شدید متاثر ہوئے۔ متاثرہ اداروں میں چھ پرائمری، تین مڈل اور دو ہائی اسکول شامل ہیں۔ لڑکیوں کے اداروں میں ایک ہائی اسکول مکمل طور پر تباہ ہوا جبکہ 56 دیگر اسکول – 46 پرائمری، چار مڈل اور دو ہائر سیکنڈری – کو جزوی نقصان پہنچا۔

مانسہرہ میں بھی نقصان کا سلسلہ جاری رہا جہاں دو پرائمری اور ایک مڈل اسکول منہدم ہوگئے جبکہ چھ دیگر ادارے متاثر ہوئے۔ دو لڑکیوں کے اسکول، ایک پرائمری اور ایک ہائی اسکول بھی جزوی طور پر متاثر ہوئے۔ بٹگرام میں چار لڑکوں کے اسکول – دو پرائمری اور دو ہائی اسکول – جزوی طور پر متاثر ہوئے، جبکہ ایک لڑکیوں کا پرائمری اسکول بھی نقصان کی زد میں آیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تینوں اضلاع میں مجموعی طور پر 61 اسکول مکمل طور پر تباہ ہوگئے، جن میں 52 پرائمری، سات مڈل اور دو ہائی اسکول شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 324 تعلیمی اداروں کو جزوی نقصان پہنچا، جن میں 233 پرائمری، 35 مڈل، 42 ہائی اور 14 ہائر سیکنڈری اسکول شامل ہیں۔

شدید بارشوں نے انفراسٹرکچر کو بھی سخت متاثر کیا۔ قراقرم ہائی وے کئی مقامات پر زیرِ آب آگئی، جبکہ سربان چوک، سکندرآباد، منڈیاں اور ایوب کمپلیکس کی سڑکیں ڈوب گئیں، جس سے ٹریفک مکمل طور پر معطل ہوگئی۔ طغیانی کے باعث مقامی نالوں اور برساتی چشموں میں شدید سیلاب آیا، جس میں ایک لگژری گاڑی بہہ کر مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔

ہری پور کے حویلیاں میں ایوب پل ایک بار پھر منہدم ہونے کے خطرے سے دوچار ہوگیا جس سے آمدورفت مزید متاثر ہوئی۔ سکندرآباد میں ایک نجی اسکول میں بارش کا پانی داخل ہوگیا تاہم الخدمت فاؤنڈیشن کے رضاکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے طلبہ اور اساتذہ کو بحفاظت باہر نکال لیا۔

ایبٹ آباد اور گلیات میں تیز ہواؤں اور طوفانی بارشوں کے باعث توحید آباد، چنگاگلی اور ایوبیہ میں مٹی کے تودے بھی گرے۔ گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی (جی ڈی اے) کے ڈائریکٹر جنرل شاہرُخ علی کے مطابق بھاری مشینری سے لیس تکنیکی عملہ دن رات متاثرہ راستوں کی بحالی میں مصروف ہے اور تمام ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاح گلیات کا سفر کرتے وقت غیر معمولی احتیاط کریں کیونکہ موسم کی صورتحال اب بھی غیر یقینی اور خطرناک ہے

More From Author

حکومتی حج کوٹے میں صرف 3,500 نشستیں باقی

راست کے دائرہ کار میں توسیع اور معیشت کو ڈیجیٹل بنانے پر حکومت کی توجہ: وزیرِاعظم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے