پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی (PES) نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ریٹائرڈ فوجی جوانوں کے لیے مستقل سرکاری نوکریوں کا کوٹہ متعارف کرایا جائے، کیونکہ فوجی کم عمری میں ریٹائر ہوتے ہیں اور میرٹ کی بنیاد پر سرکاری محکموں میں مناسب روزگار کے حق دار ہیں۔
یہ مطالبہ اتوار کے روز ہونے والے سوسائٹی کے 64ویں اجلاس میں سامنے آیا، جس کی صدارت لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم نے کی۔ اجلاس میں ایڈمرل (ر) عبدالعلیم، کموڈور ارشد خان، چیف آرگنائزر عزیز احمد اعوان اور دفاع سے متعلق مختلف اداروں کے ریٹائرڈ افسران نے شرکت کی۔
فلاحی امور پر گفتگو کے ساتھ ساتھ، سوسائٹی نے 27ویں آئینی ترمیم کے تحت متعارف کرائی گئی دفاعی اصلاحات کا خیرمقدم کیا، جنہیں پاکستان کے دفاعی ڈھانچے کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی اہم پیشرفت قرار دیا گیا۔
شرکاء کا کہنا تھا کہ اعلیٰ دفاعی تنظیم میں اصلاحات ناگزیر ہو چکی تھیں، خاص طور پر ایسے دور میں جب جنگ کے طریقے تیزی سے ڈیجیٹل اور ٹیکنالوجی پر مبنی ہو رہے ہیں۔ انہوں نے چیف آف ڈیفنس فورسز (CDF) کے نئے عہدے کو بھی سراہا، جس سے تینوں مسلح افواج کے درمیان اسٹریٹجک رابطہ، منصوبہ بندی اور آپریشنل ہم آہنگی بہتر ہونے کی توقع ہے۔
اجلاس نے وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی بھی حمایت کی، یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہ ایسا ادارہ سپریم کورٹ کو بنیادی آئینی معاملات پر توجہ دینے میں مدد دے گا جبکہ دیگر مقدمات میں تاخیر کم ہوگی۔ سوسائٹی نے واضح کیا کہ آئینی ترامیم پارلیمان کا حق ہیں، تاہم ریاستی اداروں کے درمیان اختیارات کا توازن برقرار رہنا ضروری ہے۔
خارجہ پالیسی پر گفتگو کرتے ہوئے PES نے زور دیا کہ پاکستان کو افغانستان کے ساتھ مسائل کا پرامن حل مؤثر سفارتکاری اور علاقائی تعاون کے ذریعے تلاش کرنا چاہیے۔ ساتھ ہی حکومت پر زور دیا گیا کہ مبینہ بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردی کے شواہد عالمی فورمز پر اعتماد کے ساتھ پیش کیے جائیں۔
سوسائٹی نے ایک بار پھر یہ مؤقف دہرایا کہ ریٹائرڈ فوجی جوانوں، بحریہ و فضائیہ کے عملے اور شہداء کے لواحقین کی پنشن کبھی بھی قومی کم از کم اجرت سے کم نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے حکومت کے اُس فیصلے کو بھی سراہا جس کے تحت کنٹری بیوٹری پنشن فنڈ قائم کیا جا رہا ہے جو مستقبل میں سرمایہ کاری کے ذریعے خود کفیل بن جائے گا۔
تاہم PES نے سیلاب سے متاثرہ سابق فوجیوں کے لیے معاوضے کی سست روی پر تشویش کا اظہار کیا اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ زیر التواء ادائیگیاں مزید تاخیر کے بغیر فوری طور پر جاری کی جائیں۔