دنیا کے مختلف ممالک کی طرح پاکستان میں بھی ہفتے کے روز فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا عالمی دن عقیدت اور احترام کے ساتھ منایا گیا، جس کا مقصد عالمی برادری کی جانب سے فلسطینیوں کے وقار، حقوق اور اُن کے حقِ خودارادیت کے لیے مستقل عزم کو اجاگر کرنا ہے۔
اقوامِ متحدہ یہ دن 1977 سے ہر سال منا رہی ہے، جب جنرل اسمبلی نے 29 نومبر کو باضابطہ طور پر ’’یومِ یکجہتی‘‘ قرار دیا تھا۔ یہ تاریخ اس وجہ سے بھی اہم ہے کہ 1947 میں اسی دن اقوامِ متحدہ نے فلسطین کی تقسیم کا منصوبہ منظور کیا تھا۔
یکم دسمبر 2005 کو منظور ہونے والی اقوامِ متحدہ کی قرارداد 60/37 کے تحت فلسطینی عوام کے ناقابلِ انتقال حقوق سے متعلق کمیٹی اور فلسطینی حقوق کے شعبے کو ہدایات دی گئی تھیں کہ وہ فلسطین کے مستقل مبصر مشن کے ساتھ مل کر ہر سال نمائش یا ثقافتی پروگرام منعقد کریں۔ رکن ممالک کو بھی اس سلسلے میں مکمل تعاون کرنے اور عالمی سطح پر آگاہی بڑھانے کی ترغیب دی گئی تھی۔
صدر آصف علی زرداری اور وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اپنے الگ الگ پیغامات میں فلسطینی عوام کے لیے پاکستان کی غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔ اُنہوں نے واضح کیا کہ پاکستان فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت اور ایک آزاد ریاستِ فلسطین کے قیام کی مکمل حمایت کرتا ہے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔