حیدرآباد:
ٹنڈو الہ یار ضلع میں تین ہندو لڑکیوں کے مبینہ اغوا، جبری طور پر اسلام قبول کروانے اور شادیوں کے واقعات پر شدید احتجاج دیکھنے میں آیا ہے۔ متاثرہ خاندانوں اور مقامی ہندو برادری نے ان واقعات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے فوری انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔
اتوار کو سلطان آباد تھانے میں درج ہونے والی ایف آئی آرز کے مطابق، اغوا ہونے والی لڑکیوں کی شناخت کھینچی کولہی، لتا دیوی میگھواڑھ اور مینا میگھواڑھ کے نام سے ہوئی ہے، جنہیں تھانے کی حدود کے مختلف علاقوں سے اغوا کیا گیا۔ خاندانوں کا کہنا ہے کہ 13 جولائی کو ان لڑکیوں پر دباؤ ڈال کر اسلام قبول کروایا گیا جبکہ ان کی عمریں ابھی شادی کے قانونی تقاضے پوری نہیں کرتیں۔
متاثرہ خاندانوں اور کولہی و میگھواڑھ برادری کے افراد نے ملزمان کی فوری گرفتاری کے لیے احتجاجی دھرنا بھی دیا۔ پولیس نے تین علیحدہ مقدمات درج کیے ہیں:
- کھینچی کولہی کے اغوا کے الزام میں تنویر بروہی اور قادر بروہی کے خلاف مقدمہ
- لتا دیوی کے اغوا پر سعید احمد کھرل، علی اکبر پنجابی اور ماشاء اللہ بروہی کے خلاف
- جبکہ مینا میگھواڑھ کے معاملے میں علی شیر بروہی اور ان کے بھائی عبد الستار بروہی کو نامزد کیا گیا ہے۔
یہ ایف آئی آرز (نمبر 44/2025، 45/2025، اور 46/2025) پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 365/B اور 34 کے تحت درج کی گئی ہیں، جو جبری شادی کے لیے اغوا اور مشترکہ ارادے سے متعلق ہیں۔
پولیس کی جانب سے ملزمان کی گرفتاری اور لڑکیوں کی بازیابی کی یقین دہانی کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا۔ تاہم، منگل کے روز تینوں لڑکیاں تنویر، سعید اور علی شیر کے ہمراہ سندھ ہائی کورٹ حیدرآباد سرکٹ بینچ میں پیش ہوئیں، جہاں انہوں نے بیان دیا کہ انہوں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا اور شادی کی ہے۔ عدالت میں انہوں نے اپنے نئے اسلامی نام بھی بتائے – کھینچی نے کلثوم، لتا نے بسمہ اور مینا نے سمائمہ نام رکھ لیا ہے۔
عدالت نے ان کے بیانات کے بعد تینوں جوڑوں کو حفاظتی ضمانت دے دی۔
دوسری جانب، سندھ ہیومن رائٹس کمیشن کے چیئرمین اقبال احمد دیٹھو نے ایس ایس پی ٹنڈو الہ یار کو خط لکھ کر معاملے کی غیر جانبدارانہ تفتیش یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے، خصوصاً لڑکیوں کی عمروں کے تعین کے حوالے سے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کی عمریں کم ثابت ہوئیں تو یہ شادیاں سندھ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2013 کی خلاف ورزی ہوں گی۔ متاثرہ خاندان اب بھی اپنے مؤقف پر قائم ہیں کہ لڑکیوں کو زبردستی لے جایا گیا اور وہ دباؤ میں ہیں۔ ہندو برادری کے رہنماؤں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس کیس کو قانونی طور پر اس وقت تک لڑیں گے جب تک انہیں "ان بچیوں کے لیے انصاف اور اقلیتی خاندانوں کے تحفظ کی ضمانت” نہیں مل جاتی