کراچی:
شہر بھر کے چھوٹے تاجروں نے کمرشل بجلی کے بلوں میں کے ایم سی کی جانب سے اچانک فیس دگنی کرنے پر شدید احتجاج کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر یہ اضافہ فوری طور پر واپس نہ لیا گیا تو وہ بلوں کی ادائیگی روک دیں گے۔
آل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر نے کہا کہ کے ایم سی نے ماہانہ فیس 400 روپے سے بڑھا کر 750 روپے کر دی ہے اور یہ فیصلہ کسی مشاورت کے بغیر کیا گیا۔ انہوں نے اس اقدام کو ’’کھلا فراڈ‘‘ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ایسی کون سی کارکردگی دکھائی گئی ہے جس کے بدلے تاجروں پر یہ بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’یہ تاجروں کو نچوڑنے اور کے ایم سی کی آمدنی مصنوعی طور پر بڑھانے کا ایک طریقہ ہے۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ اس اضافے سے کے ایم سی کی ماہانہ آمدن 220 کروڑ سے بڑھ کر 330 کروڑ روپے ہو جائے گی لیکن شہر کی حالت جوں کی توں ہے۔ ’’بازاروں میں گٹر ابل رہے ہیں، سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں، کچرا اُٹھانے والا کوئی نہیں۔ تاجر اضافی فیس دے بھی رہے ہیں مگر سہولیات صفر ہیں،‘‘ انہوں نے کہا اور مطالبہ کیا کہ پہلے سے جمع شدہ رقوم کا حساب دیا جائے۔
عتیق میر نے کہا کہ بارش کا ایک دن کراچی کی مارکیٹوں کو ہفتوں کے لیے مفلوج کر دیتا ہے جس سے تاجروں کو اربوں روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ انہوں نے کے الیکٹرک اور کے ایم سی پر ملی بھگت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’’دونوں اداروں نے کراچی کے کاروبار اور عوامی زندگی کو تباہ کر دیا ہے۔ کے الیکٹرک 7.5 فیصد کمیشن لے رہی ہے اور صارفین پر اضافی بوجھ ڈال رہی ہے۔‘‘
انہوں نے واضح کیا کہ اگر اضافہ واپس نہ لیا گیا تو تاجر برادری کے پاس بجلی کے بلوں کے بائیکاٹ کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت اور آرمی چیف کو مداخلت کرنی چاہیے کیونکہ تاجر اب اس ’’ناانصافی‘‘ کا مزید بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔