واشنگٹن ڈی سی – 7 جولائی 2025
ٹیکنالوجی کے ارب پتی اور دنیا کے بااثر ترین افراد میں شمار ہونے والے ایلون مسک نے ہفتے کی رات اپنی سوشل میڈیا ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اعلان کیا ہے کہ وہ ایک نئی سیاسی جماعت ’امریکہ پارٹی‘ کی بنیاد رکھ چکے ہیں۔ یہ اعلان سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ان کے تعلقات ختم ہونے کے چند ہفتوں بعد سامنے آیا ہے، اور اس میں سیاسی تناؤ کی ایک نئی لہر دیکھی جا رہی ہے۔
اپنی پوسٹ میں مسک نے لکھا: "جب بات ملکی خزانے کو لوٹنے اور کرپشن کی ہو، تو امریکہ میں اصل میں ایک ہی پارٹی ہے، ہم جمہوریت نہیں، ایک نظامِ واحد میں جی رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا: "دو کے مقابلے میں ایک کے تناسب سے، عوام ایک نئی سیاسی جماعت چاہتے ہیں — اور اب وہ جماعت آپ کے پاس ہے۔ آج ’امریکہ پارٹی‘ تشکیل دی جا رہی ہے تاکہ آپ کو آپ کی آزادی واپس دی جا سکے۔”
ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا یہ جماعت وفاقی انتخابی کمیشن (FEC) میں باضابطہ رجسٹر ہو چکی ہے یا نہیں۔ نہ ہی ایلون مسک نے کسی امیدوار یا رہنما کا اعلان کیا ہے جو اس پارٹی کی نمائندگی کرے گا۔
خیال رہے کہ ایلون مسک، جو جنوبی افریقہ میں پیدا ہوئے تھے، امریکی آئین کے مطابق صدارتی انتخاب لڑنے کے اہل نہیں ہیں۔
یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب مسک اور ٹرمپ کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ ہو چکے ہیں۔ ایک وقت میں مسک، ٹرمپ کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے تھے — انہوں نے نہ صرف انتخابی مہم میں بھرپور ساتھ دیا بلکہ مبینہ طور پر ٹرمپ کو دوبارہ صدارت دلوانے کے لیے 250 ملین ڈالر خرچ کیے۔
صورتحال اس وقت بدل گئی جب مسک نے ’ڈپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی‘ (Doge) کے سربراہ کے عہدے سے استعفیٰ دیا اور کھل کر ٹرمپ کے معاشی منصوبوں پر تنقید کی۔ خاص طور پر وہ بل، جسے ٹرمپ نے اپنا "بڑا، خوبصورت بل” قرار دیا تھا — اس میں نہ تو ماحول دوست توانائی کے لیے سبسڈی شامل تھی اور نہ ہی ٹیسلا جیسے اداروں کے لیے کسی قسم کی مراعات۔
ٹرمپ نے اس پر تیکھا ردعمل دیا۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹرتھ سوشل‘ پر لکھا: "ایلون شاید تاریخ کا سب سے بڑا سبسڈی لینے والا انسان ہے۔ بغیر سبسڈی کے، وہ اب تک دکان بند کرکے جنوبی افریقہ جا چکا ہوتا۔”
ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ وہ اب اسپیس ایکس اور اسٹارلنک جیسے اداروں کی سرکاری معاہدوں کی بھی چھان بین کرا سکتے ہیں — یہ دونوں ادارے امریکی اور یورپی دفاعی افواج کے ساتھ براہ راست کام کرتے ہیں۔
اگرچہ امریکی تاریخ میں تیسری سیاسی جماعتوں کو خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی، لیکن ایلون مسک جیسا سرمایہ، اثر و رسوخ اور سوشل میڈیا کی طاقت ’امریکہ پارٹی‘ کو 2026 کے وسط مدتی انتخابات میں ایک غیر متوقع عنصر بنا سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف شہرت اور پیسہ کافی نہیں ہوتے۔ جارج ٹاؤن یونیورسٹی کی پروفیسر ڈاکٹر ریچل لنڈن کے مطابق، "ایک موثر سیاسی جماعت بنانے کے لیے سوشل میڈیا پوسٹس کافی نہیں ہوتیں۔ اس کے لیے زمینی سطح پر کارکن، واضح منشور، مضبوط امیدوار اور ملک بھر میں بیلٹ تک رسائی ضروری ہے۔”
فی الحال ’امریکہ پارٹی‘ ایک اعلان کی حد تک ہے — لیکن ایلون مسک کے ساتھ، یہ معاملہ جلد ہی حقیقت کا روپ دھار سکتا ہے۔