ایران کا جوابی وار: خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر میزائل حملے

مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال ایک نازک موڑ پر پہنچ گئی ہے، جہاں ایران نے قطر، عراق، کویت اور بحرین میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے کر دیے۔ یہ حملے ایران کے جوہری تنصیبات پر حالیہ امریکی فضائی حملوں کے ردِعمل میں کیے گئے ہیں، جیسا کہ بین الاقوامی میڈیا نے رپورٹ کیا۔

عینی شاہدین نے آسمان میں میزائلوں کو جاتے اور پھر زور دار دھماکوں کی آوازیں سننے کی تصدیق کی ہے۔ فی الحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان حملوں میں کتنا نقصان ہوا ہے یا جانی نقصان کی کوئی اطلاع ہے یا نہیں۔

ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے ان حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ایرانی افواج نے قطر میں واقع "العدید” ایئربیس کو نشانہ بنایا۔ سرکاری نشریات میں اس کارروائی کو "ایک بھرپور اور کامیاب جواب” قرار دیا گیا ہے، جسے امریکہ کی "جارحیت” کا ردعمل کہا جا رہا ہے۔

حملوں سے کچھ دیر قبل قطر نے اپنی فضائی حدود بند کر دی تھیں، کیونکہ ایران سے بڑھتے ہوئے خطرات کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا۔ احتیاطی تدابیر کے طور پر متعدد بین الاقوامی پروازیں بھی عارضی طور پر معطل کر دی گئیں۔

ایران کے نومنتخب صدر ڈاکٹر مسعود پزشک‌کیاں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک بیان میں کہا:
"ہم جنگ نہیں چاہتے، لیکن اپنی سرزمین پر حملے کا جواب دینا ہمارا حق ہے۔”

یہ حملے امریکہ اور ایران کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات میں خطرناک اضافہ تصور کیے جا رہے ہیں۔ بین الاقوامی مبصرین اور ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ یہ صورتحال بڑے پیمانے پر تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہے، جس میں خلیجی ریاستوں سمیت امریکہ کے دیگر اتحادی بھی ملوث ہو سکتے ہیں۔ دنیا کی نظریں اس وقت خطے پر جمی ہوئی ہیں — اور سب یہی سوال کر رہے ہیں:
کیا اب مشرقِ وسطیٰ ایک اور جنگ کی دہلیز پر کھڑا ہے؟

More From Author

علاقائی کشیدگی کے باعث پی آئی اے نے خلیجی ممالک کے لیے پروازیں عارضی طور پر معطل کر دیں

آئی ورک فار سندھ” ایپ کے ذریعے 12 ہزار سے زائد افراد کو روزگار ملا، شرجیل میمن کا اسمبلی میں اظہار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے