اسلام آباد:
اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے ایک اہم عدالتی پیش رفت کے دوران 27 یوٹیوب چینلز بند کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے ان چینلز پر ریاستی اداروں کے خلاف "جھوٹی اور اشتعال انگیز معلومات” پھیلانے کا الزام عائد کیا ہے۔
ان چینلز میں زیادہ تر کا تعلق پاکستان تحریکِ انصاف (PTI) سے ہے یا یہ آزاد صحافیوں کے زیرِ انتظام ہیں، جن پر الزام ہے کہ وہ ایسی داستانیں گھڑ رہے ہیں جو "قومی استحکام کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔”
یہ حکم جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ کی جانب سے جاری کیا گیا، جنہوں نے منگل کو دو صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ سنایا۔ یہ فیصلہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر سنایا گیا، جس نے اس کیس کی تفتیش 2 جون کو اعلیٰ حکام کی منظوری کے بعد شروع کی تھی۔
عدالت میں 24 جون کو سب انسپکٹر وسیم خان نے پیش ہو کر ان چینلز کے خلاف شواہد پیش کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان پلیٹ فارمز پر نشر ہونے والا مواد نہ صرف حقائق کے منافی اور بدنام کرنے والا ہے بلکہ اس کا مقصد عوام میں خوف، افراتفری اور انتشار پیدا کرنا ہے۔
انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ نشر ہونے والے مواد میں ریاستی اداروں، خاص طور پر عدلیہ اور افواجِ پاکستان کے خلاف اشتعال انگیز اور توہین آمیز زبان استعمال کی گئی، جس کا مقصد عوام اور سیکیورٹی اہلکاروں کو اکسانا تھا۔
ایجنسی نے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) کی دفعہ 37 کے تحت کارروائی کی درخواست کی، اور عدالت سے اجازت مانگی کہ وہ گوگل ایل ایل سی (یوٹیوب کی مالک کمپنی) کو ان چینلز کو بلاک کرنے یا ہٹانے کی ہدایت دے۔
عدالت نے شواہد کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ یہ معاملہ قابلِ تعزیر جرم کے زمرے میں آتا ہے اور PECA اور پاکستانی فوجداری قوانین کے تحت کارروائی کا مستحق ہے۔
عدالتی حکم میں یوٹیوب انتظامیہ کو فوری طور پر ان چینلز کو بند کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ان میں چند معروف صحافی اور تجزیہ کار بھی شامل ہیں جن میں مؤید پیرزادہ، عمران ریاض خان، مطیع اللہ جان، اسد طور، احمد نورانی، صابر شاکر اور آفتاب اقبال شامل ہیں — جو حالیہ برسوں میں ریاستی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کرتے رہے ہیں۔
حکام کے مطابق یہ چینلز کافی عرصے سے نگرانی میں تھے اور ان پر "ریاست مخالف بیانیہ” اور "غیر مصدقہ دعوے” پھیلانے کا الزام ہے۔
اس عدالتی فیصلے نے پاکستان میں اظہارِ رائے کی آزادی، سنسرشپ، اور ڈیجیٹل حقوق کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ توقع ہے کہ صحافتی تنظیمیں اس فیصلے پر جلد ردِعمل جاری کریں گی۔