اسلام آباد نے یوکرینی صدر کے پاکستانی شہریوں کی جنگ میں ملوث ہونے کے الزام کو "بے بنیاد” قرار دے دیا

اسلام آباد –
پاکستان نے منگل کے روز یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی کے اس دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستانی شہری یوکرین اور روس کے درمیان جاری جنگ میں کرائے کے فوجی کے طور پر شریک ہیں۔ دفتر خارجہ نے اس الزام کو "بے بنیاد اور من گھڑت” قرار دیا۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب زیلنسکی نے شمال مشرقی یوکرین کے علاقے خارکیف کے دورے کے دوران الزام لگایا کہ چین، پاکستان، تاجکستان، ازبکستان اور کچھ افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے جنگجو یوکرین کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بات اپنی افواج سے موصول ہونے والی اطلاعات کے حوالے سے کہی۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے اس بیان پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان کا کوئی شہری اس تنازعے میں شامل نہیں ہے۔

"پاکستانی حکومت یوکرین کے تنازعے میں پاکستانی شہریوں کی شرکت سے متعلق بے بنیاد اور من گھڑت الزامات کو سختی سے مسترد کرتی ہے،” ترجمان دفتر خارجہ نے کہا۔
"اب تک یوکرینی حکام نے پاکستان سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ رابطہ نہیں کیا اور نہ ہی کسی قسم کے ٹھوس شواہد فراہم کیے ہیں۔”

دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ اسلام آباد اس معاملے پر یوکرینی حکام سے باضابطہ وضاحت طلب کرے گا۔

بیان میں یہ بھی دوہرایا گیا کہ پاکستان کی ہمیشہ سے غیر جانب دار اور پرامن پالیسی رہی ہے، اور ملک اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق تنازعے کے سفارتی حل کا حامی ہے۔

"پاکستان یوکرین تنازعے کے پرامن حل کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کی حمایت جاری رکھے گا،” ترجمان نے کہا۔

یاد رہے کہ روس نے 24 فروری 2022 کو یوکرین پر بھرپور حملہ کیا تھا، جس کے بعد سے ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور لاکھوں افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ جنگ کی شدت کے باعث عالمی اقتصادی نظام اور ترقی پذیر ممالک کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

پاکستان نے ابتداء ہی سے محتاط سفارتی رویہ اختیار کیا ہے۔ اسلام آباد نے روس پر تنقید سے گریز کرتے ہوئے ہمیشہ جنگ بندی اور مذاکرات پر زور دیا ہے۔ پاکستان نے قیدیوں کے تبادلوں جیسے مثبت اقدامات کا بھی خیرمقدم کیا ہے۔ گزشتہ کچھ مہینوں میں پاکستان نے روس کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے تجارتی اور توانائی کے متعدد معاہدے کیے ہیں تاکہ ملک کو درپیش معاشی بحران سے نکالا جا سکے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ روس کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ پاکستان جنگ میں کسی بھی فریق کا حصہ بن رہا ہے

More From Author

 جرمنی کے قونصل خانے نے کراچی میں نان-یورپی شہریوں کے لیے خدمات بحال کر دیں

 فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بڑھتی ہوئی عالمی اہمیت — امریکا کی پاکستان پالیسی میں بڑی تبدیلی کا اشارہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے