کراچی — پاکستان کے لیے ایک بڑی کامیابی، کراچی کی تین کم عمر طالبات نے ورلڈ روبوٹکس اولمپیاڈ (WRO) 2025 سندھ نیشنلز میں نمایاں پوزیشنز حاصل کرتے ہوئے عالمی فائنل تک جگہ بنا لی ہے، جو اس سال نومبر میں سنگاپور میں منعقد ہوگا۔
یہ ٹیم، جس نے اپنے لیے "پاورپف انوویٹرز” کا نام منتخب کیا ہے، ہاک اکیڈمی کی آٹھویں جماعت کی تین طالبات پر مشتمل ہے — ایمان زہرہ، انایہ انص، اور آیرہ رضوی — جن کی عمریں 12 سے 13 سال کے درمیان ہیں۔
یہ باصلاحیت طالبات فیوچر انوویٹرز جونیئر کیٹیگری میں مقابلہ کرتے ہوئے سندھ نیشنلز میں پہلا مقام حاصل کرنے میں کامیاب رہیں، ساتھ ہی انہیں گرلز اِن ایس ٹی ای ایم ایوارڈ بھی دیا گیا۔ قومی سطح پر، جہاں پنجاب اور سندھ کی 51 ٹیموں نے حصہ لیا، پاورپف انوویٹرز نے دوسری مجموعی پوزیشن حاصل کر کے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
ان کا پیش کردہ منصوبہ ایک اے آئی سے چلنے والا فنانشل لٹریسی اور مینجمنٹ روبوٹ ہے، جو اسمارٹ کیمرا سسٹم کے ذریعے صارفین کو بہتر خریداری کے فیصلے کرنے میں رہنمائی کرتا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد مالی نظم و ضبط کو فروغ دینا اور صارفین میں مالی شعور اجاگر کرنا ہے، جو موجودہ دور کا ایک نہایت اہم مسئلہ ہے۔
ورلڈ روبوٹکس اولمپیاڈ دنیا کا ایک معتبر بین الاقوامی مقابلہ ہے جو نوجوان طلبہ میں تخلیقی صلاحیتوں، جدت طرازی اور ایس ٹی ای ایم (سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی) کی مہارتوں کو فروغ دیتا ہے۔ اس سال کے مقابلے کا موضوع “The Future of Robots” تھا، جس میں شرکاء کو حقیقی دنیا کے مسائل کا روبوٹکس کے ذریعے حل پیش کرنے کا چیلنج دیا گیا۔
پاورپف انوویٹرز کی ٹیم واحد پاکستانی ٹیم ہوگی جو WRO گلوبل فائنلز 2025 میں شرکت کرے گی۔ ان کی یہ کامیابی نہ صرف پاکستان میں ایس ٹی ای ایم ایجوکیشن کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے بلکہ یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ پاکستانی لڑکیاں اب ان شعبوں میں بھی اپنا مقام بنا رہی ہیں جو روایتی طور پر مردوں کے لیے سمجھے جاتے تھے۔
یہ سفر اس بات کی روشن مثال ہے کہ عزم، ٹیم ورک اور جدت طرازی کے ذریعے کس طرح بڑی کامیابیاں حاصل کی جا سکتی ہیں — اور یہ کہ پاکستان میں روبوٹکس کا مستقبل پہلے ہی اس کے سب سے کم عمر اذہان تشکیل دے رہے ہیں۔