سب کچھ ختم ہوگیا: پنجاب کے کسان تین دہائیوں کی بدترین سیلابی تباہی سے دوچار

برصغیر کا زرعی دل سمجھے جانے والے پنجاب کے سرسبز و شاداب میدان اس وقت کھنڈرات کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ شمالی بھارت اور پاکستان میں تین دہائیوں کے بعد آنے والے بدترین سیلاب نے کھیتوں، گھروں اور لاکھوں زندگیاں تباہ کر کے رکھ دی ہیں۔

بھارت کے صوبہ پنجاب میں موسلادھار بارشوں نے چاول کے کھیت، کپاس اور گنے کی فصلوں کو جھیلوں میں بدل دیا۔ بدھ کی صبح بے شمار کسانوں نے آنکھ کھولی تو ان کی محنت پانچ فٹ اونچے گندے پانی کے نیچے دفن ہو چکی تھی۔ ڈوبے ہوئے مویشی کھیتوں میں بکھرے پڑے تھے جبکہ خاندانوں کو جان بچانے کے لیے اپنے گھروں کی چھتوں پر پناہ لینی پڑی۔

’’فصلیں برباد ہو گئیں، اور ہمارے گھر بھی گرنے کے قریب ہیں،‘‘ اجنالہ (ضلع امرتسر) کے 52 سالہ کسان پرمیت سنگھ نے بتایا۔ ’’میری پوری زندگی سات ایکڑ زمین پر کھڑی فصل پر منحصر تھی۔ سب کچھ تباہ ہو گیا۔ مجھے اپنی زمین بیچنے کا سوچنا پڑ رہا ہے۔ سب کچھ ختم ہوگیا۔‘‘

بھارتی پنجاب میں اب تک کم از کم 43 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ تقریباً دو ہزار دیہات زیرِ آب آ چکے ہیں۔ بجلی کی بندش، آلودہ پانی اور سڑتے ہوئے جانوروں کی بدبو نے حالات مزید ابتر کر دیے ہیں۔

فروزپور کے قانون ساز پرمندر سنگھ پنکی نے تباہی کو ناقابلِ بیان قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا: ’’یہ پنجاب کا بدترین وقت ہے۔ ساری زمین پانی میں ڈوب گئی ہے، اوپر سے کیچڑ اور ریت کی تہہ جم گئی ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں ایسی بربادی کبھی نہیں دیکھی۔‘‘

حکومتی نااہلی پر کسانوں کا غصہ

بہت سے کسان بھارتی حکومت پر لاپرواہی کا الزام لگا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بارشوں کی پیش گوئی کے باوجود اقدامات نہیں کیے گئے۔ ’’حکومت کو پہلے سے علم تھا مگر کچھ نہ کیا گیا،‘‘ پنکی نے کہا۔ ’’اسی ناکامی نے اتنی بڑی تباہی کو جنم دیا۔‘‘

پٹیالہ کے 75 سالہ کسان سرندر سنگھ نے شکوہ کیا: ’’حکومت دعوے کرے گی مگر ہمیں کچھ نہیں ملے گا۔ آخرکار ہمیں خود ہی اپنے آپ کو سنبھالنا ہے۔‘‘

پاکستانی پنجاب میں مزید تباہی

سرحد کے اُس پار پاکستان کے پنجاب میں صورتحال کہیں زیادہ خوفناک ہے۔ صوبے میں تقریباً 20 لاکھ افراد کو نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا جبکہ چار ہزار سے زائد دیہات سیلاب کی لپیٹ میں آگئے۔

بھارت کی جانب سے ڈیموں سے پانی چھوڑنے نے صورتحال مزید سنگین بنا دی۔ ابلتے ہوئے راوی دریا نے نہ صرف سرحدی باڑ کو بہا دیا بلکہ بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس کو بھی اپنی چوکیوں سے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔

منڈی بہاؤالدین کے کسان مراتاب علی گوندل نے بتایا کہ چناب دریا ان کی 90 ایکڑ زمین بہا لے گیا۔ ’’یہ بھارت کی نہیں، ہماری حکومت کی غفلت ہے جس نے سب کچھ بہا دیا،‘‘ انہوں نے افسوس سے کہا۔

لاہور کے پوش علاقے پارک ویو سوسائٹی جیسے رہائشی منصوبے بھی پانی میں ڈوب گئے۔ وہاں کے رہائشی عمر نے کہا: ’’ہم نے اپنی زندگی کی جمع پونجی یہاں لگائی تھی، مگر پانچ فٹ پانی نے گھروں کو تباہ کر دیا۔‘‘ ماہرین کا کہنا ہے کہ دریا کے کناروں پر بے ہنگم تعمیرات اور جنگلات کی کٹائی نے خطرہ کئی گنا بڑھا دیا ہے۔

قیادت پر کڑی تنقید

پاکستانی پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف بھی شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر ریلیف کی سرگرمیوں کی تصویریں شیئر کیں، مگر بعد میں انکشاف ہوا کہ یہ تصاویر دو سال پرانی تھیں۔

زراعت کا دھندلا مستقبل

سرحد کے دونوں طرف کے کسانوں کے لیے یہ سیلاب محض ایک قدرتی آفت نہیں بلکہ آنے والے خطرات کی گھنٹی ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں نے پہلے ہی زراعت کو غیر یقینی بنا دیا ہے، کبھی بے وقت بارشیں تو کبھی خشک سالی، اور قرضوں کے بوجھ نے کسانوں کو دیوالیہ کر دیا ہے۔

’’اگر پنجاب کے کسان، جو پورے بھارت کو اناج مہیا کرتے ہیں، اپنے گھروں کو نہ سنبھال سکیں اور اپنا پیٹ نہ بھر سکیں تو دوسروں کو کیا کھلائیں گے؟‘‘ سرندر سنگھ نے اپنے ڈوبے ہوئے کھیتوں کو دیکھتے ہوئے کہا۔ اب پانی اتر بھی جائے تو کسانوں کے پاس کھیتوں کی جگہ کیچڑ اور ریت کے ڈھیر، اور دلوں میں ٹوٹے خواب ہی باقی رہ جائیں گے۔ خوف یہ ہے کہ یہ آفت اب ہر نسل کے نصیب کا حصہ بننے جا رہی ہے۔

More From Author

غزہ میں بلند و بالا عمارتیں ملبے کا ڈھیر، انخلا کے احکامات مزید تباہی کی نوید؟

جاپان کا نیا وزیرِاعظم کیسے منتخب ہوگا؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے