اسلام آباد:
پاکستان کے توانائی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے حکومت نے پالیسی فریم ورک کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت آذربائیجان کی سرکاری تیل و گیس کمپنی "ساکار” (SOCAR) کو تقریباً 280 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کے ساتھ ملک کے تیل کی ترسیل کے بڑے منصوبے میں شامل ہونے کی اجازت مل گئی ہے۔ یہ سرمایہ کاری مشکے۔تھالیان۔تَرجُبہ وائٹ آئل پائپ لائن (MTT-WOP) منصوبے کو عملی شکل دینے میں اہم کردار ادا کرے گی، جسے پاکستان کے ایندھن کی ترسیلی نظام کے لیے گیم چینجر قرار دیا جا رہا ہے۔
ای سی سی کی منظوری
ذرائع کے مطابق اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے ایسے ضوابط کی منظوری دی ہے جن کے تحت ٹیرف میں رد و بدل کو براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری سے مشروط کیا گیا ہے۔ اس انتظام کے تحت نہ صرف غیر ملکی سرمایہ لانے کی راہ ہموار ہوگی بلکہ پٹرولیم مصنوعات کی ترسیل میں پاکستان کی سڑکوں پر انحصار بھی نمایاں طور پر کم ہو جائے گا۔
یہ منصوبہ مشکے (وسطی پنجاب) سے تھالیان کے راستے پشاور کے قریب تَرجُبہ تک پائپ لائن بچھانے پر مشتمل ہے۔ اسے پہلی بار 2024 میں آذربائیجان کے صدر الهام علیئیف کے دورہ پاکستان میں ایجنڈے پر شامل کیا گیا تھا، جبکہ اس سال وزیرِاعظم شہباز شریف کے دورہ باکو کے دوران دوبارہ تیز رفتاری سے بات چیت آگے بڑھی، جہاں ساکار نے اپنی دلچسپی کا اعادہ کیا لیکن ساتھ ہی ٹھوس ضمانتوں کا تقاضا بھی کیا۔
سرمایہ کاروں کا اعتماد اور حکومتی حکمتِ عملی
ای سی سی نے پٹرولیم ڈویژن کی سفارشات کو منظور کیا، جن میں کہا گیا تھا کہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال رکھنے کے لیے ڈالر میں واپسی کی ضمانت صرف حقیقی سرمایہ کاری کی بنیاد پر دی جائے۔ اس کے علاوہ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں (OMCs) سالانہ مخصوص مقدار میں پائپ لائن کے ذریعے تیل کی ترسیل کرنے کی پابند ہوں گی۔ اگر مقررہ مقدار پوری نہ ہوئی تو اس کمی کو ان لینڈ فریٹ ایکوالائزیشن مارجن (IFEM) کے ذریعے پورا کیا جائے گا تاکہ منصوبہ مالی طور پر قابلِ عمل رہے۔
سڑکوں پر انحصار کم کرنے کا عزم
اس وقت پاکستان میں تقریباً 70 فیصد پٹرول اور ڈیزل سڑکوں کے ذریعے منتقل کیا جاتا ہے، جب کہ صرف 28 فیصد پائپ لائن اور محض 2 فیصد ریل کے ذریعے۔ حکام کا کہنا ہے کہ نئی پائپ لائن سے نہ صرف اخراجات اور وقت کی بچت ہوگی بلکہ توانائی کی فراہمی بھی زیادہ محفوظ اور مؤثر ہو جائے گی۔
خدشات اور احتیاط
اجلاس میں وزیرِ توانائی نے اس بات پر زور دیا کہ ڈالر سے منسلک ٹیرف غیر ملکی سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے کے لیے ناگزیر ہے، لیکن ساتھ ہی اس پہلو کو احتیاط سے دیکھنا ہوگا تاکہ وہی غلطیاں نہ دہرائی جائیں جو ماضی میں بجلی گھروں (IPPs) کے معاہدوں میں ہوئیں۔ تاہم ای سی سی نے اس منصوبے کو "اسٹریٹجک سرمایہ کاری” قرار دیا جس سے نہ صرف ایندھن کی ترسیلی نظام جدید خطوط پر استوار ہوگا بلکہ مزید بین الاقوامی سرمایہ کار بھی راغب ہو سکتے ہیں۔
اقتصادی و جغرافیائی اہمیت
یہ معاہدہ محض ایک تجارتی منصوبہ نہیں بلکہ پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان توانائی کے شعبے میں بڑھتے ہوئے تعلقات کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ آذربائیجان، جو تیل اور گیس پیدا کرنے والا ایک اہم ملک ہے، بیرونِ ملک اپنی سرمایہ کاری بڑھانے کا خواہاں ہے، اور پاکستان میں یہ سرمایہ کاری اس کی اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
آئندہ لائحہ عمل
ای سی سی کی منظوری کے بعد اب توجہ براہِ راست ساکار کے ساتھ تجارتی شرائط طے کرنے پر مرکوز ہے۔ اگر یہ معاہدہ کامیابی سے مکمل ہو گیا تو یہ پاکستان کے توانائی کے شعبے میں حالیہ برسوں کی سب سے بڑی غیر ملکی سرمایہ کاری میں شمار ہوگا، جو دونوں ملکوں کے اقتصادی اور سفارتی تعلقات میں ایک نمایاں سنگِ میل ثابت ہو گا۔