لاہور:
پنجاب میں پہلی بار جدید تھرمل ٹیکنالوجی کے استعمال سے ریسکیو ٹیموں نے 490 سے زائد سیلاب متاثرین کو زندہ سلامت نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا۔
حکام کے مطابق اس جدید ٹیکنالوجی نے اندھیرے میں بھی ریسکیو آپریشنز ممکن بنا دیے، جس کے نتیجے میں اوکاڑہ، جھنگ، اٹھارہ ہزاری، شورکوٹ اور احمدپور سیال میں کامیاب کارروائیاں کی گئیں۔ متاثرین میں جھنگ سٹی بند کے 21 افراد، ددوعانراں کے 63، علی پور کے 70، ٹھٹھہ جابنراں کے 85 اور کئی دیگر علاقے جیسے وجہلانراں، چک نون، جوگیرا بوچران، کھرودا بکر، ڈب کلاں اور ولی محمد جھانڈیر کے درجنوں افراد شامل ہیں۔
یہ سسٹم انسانی موجودگی کو اُن جگہوں پر بھی شناخت کر لیتا ہے جہاں آنکھ سے کچھ نظر نہیں آتا۔ ریسکیو اہلکاروں نے اسے “جان بچانے والا انقلاب” قرار دیا اور کہا کہ اس ٹیکنالوجی کے بغیر کئی خاندان وقت پر تلاش نہ ہو پاتے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ریسکیو ٹیموں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب پاکستان کا پہلا صوبہ ہے جس نے اس نوعیت کی جدید ٹیکنالوجی کو قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے متعارف کرایا ہے۔ انہوں نے اس کامیابی کو ملک میں ایمرجنسی مینجمنٹ کے لیے ایک نئے معیار کا آغاز قرار دیا۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ تھرمل ٹیکنالوجی کے استعمال نے سیلابی صورتحال سے نمٹنے میں ایک نئے دور کا آغاز کیا ہے۔ ایک اہلکار نے کہا: “یہ صرف ٹیکنالوجی نہیں، بلکہ اُس وقت زندگی بچانے کا ذریعہ ہے جب ہر لمحہ قیمتی ہوتا ہے۔”
ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث سیلاب اور دیگر قدرتی آفات میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس پس منظر میں پنجاب کا یہ قدم باقی صوبوں کے لیے بھی ایک ماڈل بن سکتا ہے، جو ایمرجنسی آپریشنز میں ایک انقلابی تبدیلی ثابت ہو گا۔