ستلج میں طغیانی، چھ حفاظتی بند ٹوٹ گئے، چشتیاں اور گردونواح میں تباہی

چشتیاں، 28 اگست 2025 – دریائے ستلج میں پانی کی مسلسل بڑھتی ہوئی سطح نے جنوبی پنجاب میں تباہی مچادی ہے۔ چشتیاں میں کم از کم چھ حفاظتی بند ٹوٹ گئے جس کے باعث سیکڑوں دیہات زیرِ آب آگئے۔

مقامی ذرائع کے مطابق اب تک 300 سے زائد دیہات متاثر ہوچکے ہیں اور ہزاروں افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔ کھیتوں میں کھڑی تقریباً سات ہزار ایکڑ پر فصلیں پانی میں بہہ گئیں، جس سے زرعی نقصان کے شدید خدشات جنم لے رہے ہیں۔

مقامی کسانوں نے اپنی مدد آپ کے تحت آٹھ کلومیٹر طویل عارضی حفاظتی بند تعمیر کیا ہے، جسے وہ اپنی آخری امید قرار دے رہے ہیں۔ ایک کسان نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا: “اگر یہ بند بھی ٹوٹ گیا تو کم از کم 20 ہزار گھروں کو سیلاب بہا لے جائے گا۔”

ریسکیو کارروائیاں تاحال متاثرین تک مکمل طور پر نہیں پہنچ سکیں۔ کئی بستیاں بدستور کٹی ہوئی ہیں جبکہ کشتیوں اور ریسکیو ٹیموں کے ذریعے لوگوں تک پہنچنے کی کوششیں جاری ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق اب تک 5 ہزار افراد اور ان کے مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔

یہ صورتحال صرف چشتیاں تک محدود نہیں۔ گجرات میں بھی سینکڑوں ایکڑ زرعی اراضی پانی میں ڈوب گئی ہے۔ مقامی دیہاتی حکومتی مدد کے بغیر ہی اپنے مویشیوں کو محفوظ مقامات پر لے جانے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ اگرچہ دریائے چناب میں پانی کی سطح میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ بحالی کے عمل میں کافی وقت لگے گا۔

دریں اثنا، بہاولنگر میں سیلابی صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔ ہیڈ گنڈا سنگھ پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 61 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا ہے، جسے ’’انتہائی اونچے درجے کا سیلاب‘‘ قرار دیا گیا ہے، جبکہ ہیڈ سلیمانکی پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 99 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے، جو درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔

پانی کی سطح بڑھنے سے بابا فرید پل اور بھکن پتن پل کے اطراف کے علاقے زیرِ آب آگئے ہیں۔ 105 دیہات اور سینکڑوں بستیوں میں سیلابی پانی داخل ہوچکا ہے، جس کے نتیجے میں 1 لاکھ 50 ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں۔ ان میں سے تقریباً 90 ہزار افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت نقل مکانی شروع کر دی ہے۔

مقامی طور پر بنائے گئے عارضی بند بھی تیز بہاؤ کے سامنے ٹک نہ سکے اور ٹوٹ گئے، جس سے مزید کھیت اور مکانات تباہ ہوگئے۔ متاثرین اب سوال کر رہے ہیں کہ آیا سرکاری سطح پر کیے جانے والے ریسکیو اور امدادی اقدامات اس بڑے بحران سے نمٹنے کے لیے کافی ثابت ہوں گے یا نہیں۔

More From Author

 سکھ برادری کا کرتارپور میں بھارت کی ’’آبی جارحیت‘‘ پر شدید ردِعمل

کراچی میں آٹے کے بحران کا خدشہ، قیمتوں میں ہوشربا اضافہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے