اسلام آباد – 19 اگست 2025:
وفاقی حکومت نے کراچی کی دونوں بڑی بندرگاہوں — کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم — پر بھیڑ اور کنٹینرز کی کلیئرنس میں تاخیر کم کرنے کے لیے اہم اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
وفاقی وزیر برائے بحری امور، جنید انور چوہدری کی زیر صدارت اعلیٰ سطح اجلاس میں بتایا گیا کہ کلیئرنس کے عمل کو تیز بنانے کے لیے سفارشات کو حتمی شکل دے کر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو بھجوا دیا گیا ہے۔ وزیر نے کہا کہ یہ اقدامات آئندہ دو ہفتوں میں نافذ کیے جائیں گے تاکہ بندرگاہی امور کو بین الاقوامی معیار کے مطابق لایا جا سکے۔
وزیر کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے جدید ٹیکنالوجی متعارف کرائی جائے گی تاکہ اسکریننگ اور لیبارٹری ٹیسٹ میں لگنے والا وقت کم کیا جا سکے، جب کہ زائد المیعاد مال کے تیز تر اخراج کی حکمتِ عملی بھی اپنائی جائے گی تاکہ بندرگاہوں پر رش کم ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹرمینلز کی گراؤنڈنگ کیپیسٹی بڑھانے کی تجاویز بھی دی گئی ہیں تاکہ کارگو کی ترسیل بہتر ہو سکے۔
جنید انور چوہدری نے مزید کہا کہ رات کے اوقات میں مال بردار گاڑیوں کی نقل و حرکت پر عائد پابندیاں ختم کر دی جائیں گی، جبکہ ٹرک ہولڈنگ ایریاز اور ملٹی موڈل ٹرانسپورٹ منصوبوں پر بھی عملدرآمد کیا جائے گا۔ ان کے مطابق یہ اقدامات تجارتی عمل کو آسان اور لاگت کو کم کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ حکومت کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) پر ڈرائی بلک ایکسپورٹ کارگو کے لیے بندرگاہی چارجز میں 50 فیصد کمی کا اعلان کر چکی ہے۔ اس ریلیف کے تسلسل میں وزارتِ بحری امور نے ویرفیج چارجز میں بھی نصف کمی کر دی ہے، اسٹوریج چارجز کو فوری طور پر 50 فیصد کم کر دیا گیا ہے اور بندرگاہی فیسوں میں ہر سال پانچ فیصد اضافے کے فیصلے کو بھی مؤخر کر دیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ تمام اقدامات وزیرِاعظم شہباز شریف کے اُس وژن کے مطابق ہیں جس کا مقصد برآمدات میں اضافہ اور کاروباری لاگت میں کمی لانا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ اصلاحات قومی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں جس کا مقصد بندرگاہی ڈھانچے کی جدید کاری، پائیداری کو فروغ دینا اور اس شعبے کو "اسمارٹ میری ٹائم پریکٹسز” کی طرف منتقل کرنا ہے۔ جنید چوہدری نے یہ عزم بھی دہرایا کہ حکومت بحری شعبے کو عالمی ماحولیاتی معیار سے ہم آہنگ کرے گی کیونکہ ایک مضبوط معیشت وہی ہوتی ہے جو کارکردگی کے ساتھ ساتھ ماحولیات کی ذمہ داری کو بھی پیش نظر رکھے