اسلام آباد – 8 اگست 2025:
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کو قومی اسمبلی میں ایک بڑا پارلیمانی جھٹکا لگا ہے، جہاں پارٹی کے تین اہم عہدے باضابطہ طور پر خالی قرار دے دیے گئے ہیں۔ اس حوالے سے جمعرات کے روز ایک نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا۔
پارلیمانی ذرائع کے مطابق، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے پی ٹی آئی سے قائد حزبِ اختلاف، پارلیمانی لیڈر اور ڈپٹی پارلیمانی لیڈر کے عہدے واپس لے لیے ہیں۔ یہ فیصلہ پی ٹی آئی کے سینئر رہنما عمر ایوب کی نااہلی کے بعد سامنے آیا ہے، جو قائد حزبِ اختلاف کے منصب پر فائز تھے۔
اسپیکر ایاز صادق نے ایوان کو آگاہ کیا کہ نئے قائد حزبِ اختلاف کے لیے جلد نام طلب کیے جائیں گے۔ عمر ایوب کو ان کے قائدانہ عہدے سے ہٹانے کے ساتھ ساتھ انہیں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور فنانس کمیٹی کی رکنیت سے بھی الگ کر دیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کے لیے مشکلات یہیں ختم نہیں ہوئیں۔ پارٹی سے تعلق رکھنے والے سات ارکانِ اسمبلی، جنہیں نااہل قرار دیا گیا ہے، ان کی بھی مختلف قائمہ کمیٹیوں کی رکنیت ختم کر دی گئی ہے۔ ان ارکان میں جمشید دستی، احمد چٹھہ، عبداللطیف، عمر ایوب، حیدر علی، حمید رضا، رائے حسن نواز اور زرتاج گل شامل ہیں۔
مجموعی طور پر، ان ارکان سے 15 کمیٹیوں کی رکنیتیں واپس لے لی گئی ہیں۔ صاحبزادہ حمید رضا کو قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کی چیئرمینی سے ہٹا دیا گیا ہے، جبکہ زرتاج گل کو بھی اسی کمیٹی کی رکنیت سے محروم کر دیا گیا ہے۔ رائے حسن نواز سے ریلوے کمیٹی کی چیئرمینی واپس لے لی گئی ہے۔
پارلیمانی حلقوں کا کہنا ہے کہ اب پی ٹی آئی سے منسلک آزاد ارکان کو نئے پارلیمانی لیڈر اور ڈپٹی لیڈر کے لیے دوبارہ نامزدگیاں دینا ہوں گی، جس کے لیے اسپیکر قومی اسمبلی جلد باقاعدہ احکامات جاری کرنے والے ہیں۔ یہ پیش رفت پی ٹی آئی اور پارلیمانی قیادت کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کو ظاہر کرتی ہے، اور ایسے وقت میں پارٹی کی قومی اسمبلی میں مؤثر حیثیت کو مزید کمزور کر رہی ہے، جب ملکی سیاست ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے