اسلام آباد:
وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کے روز یومِ استحصال کے موقع پر بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر (IIOJK) کے عوام کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کو تسلیم کیے بغیر خطے میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں۔
اپنے خصوصی پیغام میں وزیراعظم نے مسئلہ کشمیر کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون قرار دیا اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے۔
"آج کا دن تمام پاکستانیوں اور دنیا بھر کے امن پسند لوگوں کے لیے ہے کہ وہ کشمیری عوام کی لازوال قربانیوں اور استقامت کو خراجِ تحسین پیش کریں،” وزیراعظم نے کہا۔ "پاکستانی قوم اور حکومت اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔”
وزیراعظم نے عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ بھارت پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ 5 اگست 2019 کو کیے گئے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کو واپس لے، جن کے تحت جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کی گئی تھی۔ انہوں نے بھارت کے "سخت گیر قوانین” کو بھی منسوخ کرنے اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے بھارت کی جانب سے مئی 2025 میں مبینہ جارحیت کا بھی ذکر کیا، جس کے بارے میں حکومتِ پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس کا بھرپور اور فوری دفاعی ردعمل دیا گیا۔ وزیراعظم کے مطابق یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل اب محض علاقائی نہیں بلکہ عالمی امن کا تقاضا ہے۔
"کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہی واحد راستہ ہے،” شہباز شریف نے دوٹوک الفاظ میں کہا۔ انہوں نے کشمیری عوام کو ان کے حقِ خودارادیت کے حصول تک مکمل سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھنے کا عزم بھی دہرایا۔
یومِ استحصال ہر سال 5 اگست کو منایا جاتا ہے تاکہ بھارت کے اس یکطرفہ اقدام کے خلاف آواز بلند کی جا سکے جس کے تحت اس نے 2019 میں جموں و کشمیر کی آئینی خودمختاری ختم کر دی تھی — ایک ایسا عمل جسے پاکستان اور کشمیری قیادت بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں۔
اس دن کی مناسبت سے ملک بھر اور بیرونِ ملک خصوصی تقریبات اور سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا۔ اسلام آباد میں دفترِ خارجہ سے ایک ریلی نکالی گئی جو ڈی چوک پر اختتام پذیر ہوئی، جس میں سرکاری شخصیات، شہری اور سماجی کارکنان شریک ہوئے۔ صبح 10 بجے کشمیری شہداء کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔
اسی طرح چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی یکجہتی واکس اور عوامی اجتماعات منعقد کیے گئے، جبکہ دنیا بھر میں قائم پاکستانی سفارتخانوں نے بھی یومِ استحصال کے حوالے سے خصوصی تقاریب منعقد کیں تاکہ عالمی سطح پر کشمیری عوام کی آواز بلند کی جا سکے۔