اسلام آباد – 30 جولائی 2025:
الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) ایک مرتبہ پھر قانونی اور سیاسی حلقوں کی شدید تنقید کی زد میں ہے۔ ماہرین قانون اور اپوزیشن رہنما اس عمل کو آئینی تقاضوں سے ہٹ کر چلنے والا ایک "وسیع اور متنازعہ” نااہلی مہم قرار دے رہے ہیں، جس کا زیادہ تر ہدف پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے ارکان بنے ہیں۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران، 9 مئی کے واقعات سے منسلک سزاؤں کی بنیاد پر پی ٹی آئی کے چار منتخب نمائندے — دو ایم این اے، ایک سینیٹر اور ایک ایم پی اے — کو ان کے عہدوں سے ہٹایا جا چکا ہے۔ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان پہلے ہی تین مختلف مقدمات میں سزایافتہ ہونے کے باعث عام انتخابات 2024 میں حصہ لینے سے محروم رہے۔
پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آئندہ چند ماہ میں مزید 39 ارکان کو بھی نااہلی کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ماہرینِ قانون اب کھل کر سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا ای سی پی کا کردار آئینی دائرہ کار کے اندر ہے یا نہیں۔
کیا آئینی طریقہ کار کو نظرانداز کیا جا رہا ہے؟
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نااہلیاں آئین کے آرٹیکل 225 کو نظرانداز کر کے کی جا رہی ہیں، جو واضح طور پر کہتا ہے کہ کسی بھی رکنِ اسمبلی کے انتخاب کو چیلنج کرنے کے لیے صرف انتخابی ٹریبونل کے ذریعے انتخابی پٹیشن دائر کی جا سکتی ہے، نہ کہ ای سی پی کی یکطرفہ کارروائی کے ذریعے۔
سابق ایڈیشنل اٹارنی جنرل وقار رانا نے کہا:
"یہ کوئی معمولی قانونی نکتہ نہیں، بلکہ انتخابی انصاف کا بنیادی اصول ہے۔ آرٹیکل 63(1)(g) کے تحت نااہلی صرف اُس وقت ممکن ہے جب سزا اعلیٰ عدالت سے برقرار رکھی جائے، اور تب ہی اسپیکر ریفرنس ای سی پی کو بھیج سکتا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ اگر کسی سزا کے خلاف اپیل میں فیصلہ تبدیل ہو جائے تو نااہلی کیسے برقرار رہ سکتی ہے؟ "ای سی پی ایسے فیصلے کر رہا ہے جیسے یہ فرض کر لیا گیا ہو کہ تمام سزائیں برقرار رہیں گی — اور یہی بات خطرناک ہے۔”
رانا نے اس صورتحال کا موازنہ 1975 میں بھارتی وزیرِ اعظم اندرا گاندھی کی نااہلی کے کیس سے کیا، جسے بھارتی سپریم کورٹ نے اپیل پر معطل کیا اور وہ وزیرِ اعظم کے عہدے پر براجمان رہیں۔
ای سی پی کے بڑھتے کردار پر تنقید
مبصرین کے مطابق ای سی پی کا موجودہ رویہ ماضی کی عدالتی مداخلتوں کی یاد دلاتا ہے، جب سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری اور ثاقب نثار کے ادوار میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے متعدد ارکان کو نااہل قرار دیا گیا تھا — جن میں سابق وزرائے اعظم یوسف رضا گیلانی اور نواز شریف بھی شامل تھے۔
اب یہی عمل پی ٹی آئی کے ساتھ دہرایا جا رہا ہے۔ حال ہی میں پی ٹی آئی کے رہنما جمشید دستی کو اپنے کاغذاتِ نامزدگی میں اثاثے ظاہر نہ کرنے پر ای سی پی نے نااہل قرار دیا۔ اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کی اہلیت بھی زیرِغور ہے۔
پی ٹی آئی کے وکیل ابوذر سلمان نیازی کے مطابق، بیشتر نااہلیاں انسدادِ دہشت گردی عدالت، سرگودھا، جیسے ابتدائی درجے کی عدالتوں کے فیصلوں کی بنیاد پر ہو رہی ہیں۔ "یہ فیصلے حتمی نہیں بلکہ اپیل کے منتظر ہیں، اور قانون کے مطابق کسی بھی سزا کو اُس وقت تک حتمی نہیں سمجھا جا سکتا جب تک تمام اپیلیں نمٹا نہ دی جائیں۔”
انہوں نے 1975 کے سپریم کورٹ کے فیصلے "فیڈریشن آف پاکستان بنام گل حمید خان” کا حوالہ دیا، جس میں عدالت نے واضح کیا تھا کہ اپیل کا عمل عدالتی انصاف کا لازمی حصہ ہے، اور حتمی فیصلے تک کوئی نااہلی نہیں ہو سکتی۔
آئینی تقاضوں اور فطری انصاف کی خلاف ورزی؟
نیازی کا مزید کہنا تھا کہ بغیر سنے نااہلی کا اعلان جاری کرنا آئین کے آرٹیکل 10-A کی کھلی خلاف ورزی ہے، جو ہر فرد کو منصفانہ ٹرائل کا حق دیتا ہے۔ "اصولِ سماعت — ‘کسی کو سنے بغیر مجرم نہ قرار دیا جائے’ — انتظامی اور عدالتی نظام کی بنیاد ہے۔”
انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے "اسد علی خان بنام صوبہ پنجاب” کا حوالہ دیا، جس میں کہا گیا کہ متاثرہ فریق کو سنے بغیر کیا گیا فیصلہ کالعدم ہو جاتا ہے۔
چن چن کر کارروائی؟
ماہرین اس بات پر بھی تشویش ظاہر کر رہے ہیں کہ ای سی پی کی کارروائیاں غیر متوازن اور جانبدار لگ رہی ہیں۔ پی ٹی آئی کے خلاف تو فوری فیصلے سنائے جا رہے ہیں، لیکن ایک سال سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود مخصوص نشستوں کے متعلق سپریم کورٹ کا حکم اب تک نافذ نہیں کیا گیا۔
نیازی نے کہا: "اس طرح کی چن چن کر احتساب کی کارروائیاں آئین کے آرٹیکل 25 کی خلاف ورزی ہیں، جو قانون کے سامنے مساوات کی ضمانت دیتا ہے۔”
انہوں نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بنام فیڈریشن آف پاکستان کے فیصلے کا حوالہ دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ آئینی اداروں کی ساکھ ان کی غیرجانبداری، شفافیت اور قانون کی پاسداری سے جڑی ہوتی ہے — اور فی الحال ای سی پی ان تمام معیارات پر پورا نہیں اتر رہا۔
آگے کیا ہوگا؟
جمشید دستی کی نااہلی کے خلاف کیس آج لاہور ہائیکورٹ میں سنا جائے گا۔ ادھر، سپریم کورٹ کی ہدایت پر 9 مئی کے مقدمات کی تیز رفتار سماعت جاری ہے، جس میں تمام فیصلے چار ماہ میں مکمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
قانونی مبصرین کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی کچھ خاص سیاسی جماعتوں کو نشانہ بنانے کے لیے عدالتی عمل کو تیز کیا گیا — جیسا کہ پانامہ کیس کے دوران شریف خاندان کے خلاف نیب مقدمات۔ اب موجودہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں یہی عمل پی ٹی آئی کے خلاف دہرایا جا رہا ہے۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ احتساب جمہوریت کا لازمی جزو ہے، لیکن اگر اسے آئینی طریقہ کار کے بغیر کیا جائے تو اس سے نہ صرف عدلیہ کی ساکھ متاثر ہوگی بلکہ عوامی اعتماد بھی مجروح ہو سکتا ہے