وزیراعظم کا نوجوانوں کے روزگار کے لیے پاکستان کے پہلے ’اسکلز امپیکٹ بانڈ‘ کی منظوری

شہباز شریف کا جدید مہارتوں کی تربیت اور بیرونِ ملک روزگار کے مواقع تیز کرنے پر زور

اسلام آباد: نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی ایک اہم پیش رفت میں، وزیراعظم شہباز شریف نے جمعہ کے روز پاکستان کے پہلے اسکلز امپیکٹ بانڈ کی منظوری دے دی — یہ ایک جدید ماڈل ہے جس کے تحت نجی سرمایہ کاری کو استعمال کرتے ہوئے نوجوانوں کو ہنر مند بنایا جائے گا۔

روزگار کے حوالے سے منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے زور دیا کہ فنی تربیت کو موجودہ مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ صرف تعلیم دینا کافی نہیں، نوجوانوں کو عملی طور پر روزگار کے قابل بھی بنانا ہوگا۔

"یہ صرف تربیت کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ قابلیت کو پیداوار میں بدلنے کا عمل ہے،” وزیراعظم نے کہا، اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ نوجوانوں کو ہنر سکھانے اور تربیت کے بعد روزگار کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات تیز کریں۔

نیا ماڈل "پے فار سکسیس” پر مبنی ہے، جس کے تحت سرکاری یا ڈونر فنڈز صرف اُس وقت جاری کیے جائیں گے جب آزادانہ تصدیق شدہ نتائج حاصل ہوں — جیسے کہ نوجوانوں کو ملازمت ملنا یا ان کی آمدن میں مخصوص حد تک اضافہ ہونا۔

اجلاس میں حکام نے وزیراعظم کو منصوبے کی جامع حکمت عملی سے آگاہ کیا، جس کا مقصد ملک کے نوجوانوں کو ایسے ہنر سکھانا ہے جو ملکی و بین الاقوامی مارکیٹ میں ان کے لیے روزگار کے دروازے کھولیں۔ منصوبے کا ایک اور اہم پہلو نوجوانوں کو خود کفالت اور کاروباری مواقع کے لیے تیار کرنا ہے۔

وزیراعظم نے وزیراعظم یوتھ پروگرام، وزارت اوورسیز پاکستانیز، اور نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (NAVTTC) کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارے نوجوانوں کو باعزت روزگار دلانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے یہ تجویز بھی دی کہ پاکستانی نوجوانوں کو دیگر ممالک کی مقامی زبانیں سکھائی جائیں تاکہ انہیں بیرون ملک بہتر مواقع مل سکیں۔ "ہمیں اپنے نوجوانوں کو صرف ہنر ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر کامیاب ہونے کے تمام اوزار بھی فراہم کرنے ہوں گے،” وزیراعظم نے کہا۔

شہباز شریف نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ پاکستان اور بیرون ملک دستیاب روزگار کے مواقع پر مبنی جامع روڈمیپ فوری طور پر تیار کیا جائے، اور اعلان کیا کہ وہ اس منصوبے کی پیش رفت کا ہر دو ماہ بعد خود جائزہ لیں گے۔

اجلاس میں ڈیجیٹل یوتھ ہب کا ذکر بھی ہوا — ایک ایسا مرکزی آن لائن پلیٹ فارم جو نوجوانوں کو ملازمت، تربیت اور اسکالرشپس سے جوڑتا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اب تک 5 لاکھ سے زائد افراد رجسٹر ہو چکے ہیں اور 17 لاکھ سے زیادہ بار اس ایپ کو ڈاؤن لوڈ کیا گیا ہے۔ اس پورٹل پر پاکستان میں 47,000 سے زائد اور بیرون ملک 1 لاکھ سے زائد نوکریوں کی فہرست موجود ہے، جبکہ 2,000 سے زائد اسکالرشپس اور 500 سے زیادہ مقامی و بین الاقوامی ادارے، بشمول اقوام متحدہ، اس سے منسلک ہیں۔

وزیراعظم نے نوجوانوں میں اس پلیٹ فارم کے بارے میں آگاہی بڑھانے کے لیے ایک ملک گیر مہم شروع کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا، "پاکستان کے نوجوان ہمارا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔ اگر ہم انہیں قابلِ روزگار تعلیم اور ہنر فراہم کر دیں تو نہ صرف ان کی زندگی بدلے گی، بلکہ ملک کی تقدیر بھی سنور جائے گی۔”

اجلاس میں وفاقی وزرا احد چیمہ، عطااللہ تارڑ، وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خان، رکن قومی اسمبلی آمنہ بتول اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

More From Author

 Karachi Welcomes ‘Time Travel Theatre’ at Dino Safari Park

وزیراعظم کا ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے مکمل تعاون کا اعادہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے