پاکستان کی پہلی الیکٹرک ٹرام لاہور پہنچ گئی — شہری نقل و حرکت کے نئے دور کا آغاز

لاہور | جولائی 2025

لاہور میں شہری ٹرانسپورٹ کا منظر نامہ ایک نئے دور میں داخل ہونے جا رہا ہے۔ ماحول دوست اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس، پاکستان کی پہلی الیکٹرک ٹرام شہر میں پہنچ چکی ہے — اور یہ ملک کے سڑکوں پر چلنے والی روایتی ٹرانسپورٹ سے بالکل مختلف ہے۔

علی ٹاؤن ڈپو میں اس وقت اس جدید ٹرام کی اسمبلی جاری ہے۔ یہ چین سے درآمد کی گئی ہے اور لاہور کی مصروف کینال روڈ پر ایک پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر چلائی جائے گی۔ اگر منصوبہ کامیاب رہا، تو پنجاب کے دارالحکومت کے شہری جلد ہی ایسی سواری سے لطف اندوز ہوں گے جو نہ صرف ماحول دوست ہے بلکہ جدید شہری سہولتوں سے بھی آراستہ ہے۔

کیا چیز اس ٹرام کو خاص بناتی ہے؟

یہ ٹرام روایتی ریل پر چلنے والی ٹرام نہیں ہے۔ اسے بغیر کسی مستقل ٹریک کے چلنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، یعنی یہ عام ٹریفک کے ساتھ سڑک پر ہی سفر کرے گی۔ حکام کے مطابق، یہ گاڑی صرف 10 منٹ کی چارجنگ پر 27 کلومیٹر تک سفر کر سکتی ہے — جو کہ نہایت موثر اور توانائی بچانے والا نظام ہے۔

اس میں تین جُڑی ہوئی بوگیاں ہیں، جو 200 سے زائد مسافروں کو لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ جدید ڈیجیٹل نیویگیشن سسٹم، اسٹیئرنگ کنٹرولز، اور کم اونچائی والا ڈیزائن اسے ہر عمر کے افراد کے لیے آسان بناتا ہے۔

اگرچہ یہ ٹرام خودکار طریقے سے بھی چل سکتی ہے، لیکن پاکستان میں حفاظتی اقدامات کے تحت اسے ڈرائیورز کے ذریعے چلایا جائے گا۔ اگست کے پہلے یا دوسرے ہفتے میں لاہور ایکسپو سینٹر میں اس کی ایک عملی نمائش متوقع ہے، جس میں اعلیٰ سرکاری حکام اور ماہرینِ نقل و حمل شرکت کریں گے۔

ٹھوکر سے ہربنس پورہ تک — آزمائشی روٹ

پنجاب کے وزیرِ ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان کے مطابق، آزمائشی روٹ کا آغاز ٹھوکر نیاز بیگ سے ہربنس پورہ تک ہوگا۔ اس دوران دیکھا جائے گا کہ یہ ٹرام موجودہ ٹریفک کے ساتھ کس حد تک مؤثر انداز میں چل سکتی ہے، اور آیا اسے چلانے کے لیے الگ لین کی ضرورت ہوگی یا نہیں۔

تاہم، سڑک کی توسیع یا درختوں کی کٹائی جیسے اقدامات سے بچنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ منصوبہ ماحول دوست اور کم لاگت میں مکمل ہو سکے۔

ایک متبادل آزمائشی روٹ کی تجویز مین بلیوارڈ گلبرگ کے لیے بھی زیرِ غور ہے، جو لاہور کے مصروف ترین تجارتی علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔

وزیرِ ٹرانسپورٹ نے بتایا، “یہ جدید ٹیکنالوجی ابوظہبی اور چین کے متعدد شہروں میں رائج ہو چکی ہے، اور بوداپیسٹ جیسے شہر بھی اسے اپنانے والے ہیں — لیکن ہم پُرامید ہیں کہ **لاہور اور گوجرانوالہ ان سے پہلے یہ سروس شروع کر لیں گے۔”

لاہور سے آگے — پنجاب کا وژن

الیکٹرک ٹرام منصوبہ صرف لاہور تک محدود نہیں۔ یہ پنجاب کے پانچ سالہ ٹرانسپورٹ ماڈرنائزیشن پلان کا حصہ ہے، جسے رواں سال کے آغاز میں منظور کیا گیا۔ اس پلان کا مرکزی جزو ہے آٹومیٹڈ ریپڈ ٹرانزٹ (ART) سسٹم — ایک جدید، بغیر ریل کے چلنے والا الیکٹرک بس نیٹ ورک، جسے قطر، ملیشیا اور یو اے ای میں کامیابی سے اپنایا جا چکا ہے۔

یہ ART بسیں درج ذیل خصوصیات کی حامل ہوں گی:

  • تین جُڑی ہوئی کوچز
  • 300 مسافروں کی گنجائش
  • وائی فائی کی سہولت
  • سی سی ٹی وی نگرانی
  • سولر پاور سے چلنے والے تیز چارجنگ اسٹیشنز

وزیرِ اعلیٰ مریم نواز پہلے ہی واضح کر چکی ہیں کہ یہ منصوبہ صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں بلکہ مقصد یہ ہے کہ چھوٹے شہروں میں بھی صاف، محفوظ اور جدید ٹرانسپورٹ دستیاب ہو۔

انہوں نے ایک اجلاس میں کہا، “یہ ٹرام صرف ایک سواری نہیں، بلکہ برابر ترقی، ماحولیات سے محبت، اور بہتر معیارِ زندگی کی علامت ہے۔”

آگے کیا ہوگا؟

اگر لاہور میں یہ پائلٹ منصوبہ کامیاب رہا، تو یہ سسٹم فیصل آباد، گوجرانوالہ سمیت دیگر شہروں میں بھی پھیلایا جائے گا۔ منصوبے کا مقصد صرف نئی سواری لانا نہیں، بلکہ ٹریفک کا دباؤ کم کرنا، ماحولیاتی آلودگی گھٹانا، اور گرین ٹرانسپورٹ کے شعبے میں نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنا ہے۔

ایک ایسا شہر جو کئی برسوں سے دھویں، شور اور بے ہنگم ٹریفک کا شکار رہا ہو، وہاں یہ الیکٹرک ٹرام نہ صرف ایک نئی سواری ہے — بلکہ ایک صاف، ہوشمند، اور پائیدار مستقبل کی امید ہے۔

More From Author

کراچی میں ڈاؤن سنڈروم کے مریضوں کے لیے تیسرا مرکز قائم، امیدوں کا نیا در کھل گیا

پی آئی اے کی یورپ واپسی کی تیاریاں مکمل، نجکاری کی کوششیں دوبارہ زور پکڑنے لگیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے