کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم میں مواقع پر غور کے لیے اہم ویبینار، 65 سے زائد امریکی کمپنیوں کی شرکت
اسلام آباد – 17 جولائی 2025:
پاکستان کے بندرگاہی شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات کو نئی جہت مل گئی ہے، جب بدھ کے روز منعقد ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی ویبینار میں 65 سے زائد امریکی کمپنیوں نے شرکت کی اور کراچی پورٹ و پورٹ قاسم میں کاروباری مواقع پر غور کیا۔
یہ ویبینار — جو “گیٹ ویز ٹو گروتھ: ساؤتھ ایشیا پورٹ آپرچونیٹیز” سیریز کا حصہ تھا — امریکی محکمہ تجارت کے انٹرنیشنل ٹریڈ ایڈمنسٹریشن، امریکی محکمہ خارجہ اور پاکستان کی وزارت بحری امور کے اشتراک سے منعقد کیا گیا۔
ویبینار کا مقصد امریکی کمپنیوں اور پاکستانی بندرگاہی حکام و نجی آپریٹرز کے درمیان براہِ راست رابطہ فراہم کرنا تھا، تاکہ پاکستان کی بندرگاہی انفراسٹرکچر میں امریکی سرمایہ کاری کے امکانات کو عملی شکل دی جا سکے۔
امریکی قونصل جنرل کراچی، اسکاٹ اربم نے سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معیشت میں امریکی سرمایہ کاروں کا ایک اہم کردار رہا ہے، اور بندرگاہی شعبہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
’’ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے بندرگاہی شعبے میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ باہمی تعاون کے ذریعے ہم نئی تجارتی راہیں کھول سکتے ہیں، لاجسٹکس کو مزید مؤثر بنا سکتے ہیں، اور پاکستان کی اقتصادی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں،‘‘ اربم نے کہا۔
ویبینار میں پاکستان کی وزارت بحری امور، پورٹ قاسم اتھارٹی، ابو ظہبی پورٹس (جو کراچی گیٹ وے ٹرمینل لمیٹڈ چلاتی ہے)، اور دبئی پورٹس ورلڈ (جو قاسم انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل چلاتی ہے) کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی اور پاکستان کے ترقیاتی اہداف، قواعد و ضوابط اور تجارتی ترجیحات پر روشنی ڈالی۔
اجلاس میں یہ بھی اجاگر کیا گیا کہ امریکی کمپنیاں پاکستان کی بندرگاہوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے، تجارتی گنجائش بڑھانے، اور خطے میں نئی سپلائی چین روابط قائم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔
امریکی انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن کے ڈائریکٹر برائے آئی سی ٹی و انفراسٹرکچر پالیسی، ایان ہنڈلے نے اس اقدام کو امریکی کمپنیوں کے لیے جنوبی ایشیا کی منڈیوں تک رسائی کا ایک مؤثر ذریعہ قرار دیا۔
’’یہ پروگرام امریکی کاروباری اداروں کو مارکیٹ انٹیلی جنس، قواعد و ضوابط کا فہم، اور مقامی فیصلہ سازوں تک براہِ راست رسائی فراہم کرتا ہے، جس سے وہ اس خطے میں مؤثر سرمایہ کاری کے قابل بن سکتے ہیں،‘‘ ہنڈلے نے کہا۔
یہ مشترکہ ویبینار پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی تعاون کے ایک نئے باب کی نشاندہی کرتا ہے، جو بندرگاہی روابط کو فروغ دینے اور طویل المدتی، پائیدار شراکت داریوں کی بنیاد رکھنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔