آئینی ترمیم پر پارٹی مؤقف کی خلاف ورزی، پی ٹی آئی نے پانچ ایم این ایز کو نکال دیا

اسلام آباد:
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے قومی اسمبلی کے پانچ ارکان کو پارٹی ہدایت کے خلاف ووٹ دینے پر جماعت سے نکال دیا ہے۔ یہ ووٹنگ گزشتہ سال اکتوبر میں 26ویں آئینی ترمیم کے دوران ہوئی تھی۔

اتوار کو پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کی جانب سے جاری کیے گئے علیحدہ علیحدہ نوٹیفکیشنز کے مطابق جن ارکان کو پارٹی سے نکالا گیا ہے ان میں اورنگزیب کچھی، ظہور حسین قریشی، عثمان علی، مبارک زیب اور الیاس چوہدری شامل ہیں۔ یہ تمام ارکان 2024 کے عام انتخابات میں آزاد حیثیت سے منتخب ہوئے تھے مگر پی ٹی آئی نے انہیں اپنی حمایت دی تھی۔

نوٹیفکیشنز میں کہا گیا ہے کہ ان ارکان نے پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کی اور 21 اکتوبر کو آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا حالانکہ پارٹی نے اس کے خلاف ووٹ دینے کا متفقہ فیصلہ کیا تھا۔

ظہور قریشی کو جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا:

"آپ نے اپنی وابستگی، حلف اور وفاداری کی خلاف ورزی کی ہے۔ آپ نے پارٹی کی ہدایات کے برخلاف 26ویں آئینی ترمیم 2024 کے حق میں ووٹ دیا۔”

نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا کہ اس اقدام سے یہ تاثر گیا کہ انہوں نے اسمبلی میں کسی اور پارلیمانی پارٹی کا ساتھ دے دیا ہے۔

"لہٰذا آپ کو فوری طور پر پارٹی سے نکالا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ اپنی اس حرکت کی بنیاد پر نااہل بھی قرار پاتے ہیں۔”

یہ آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور کی گئی تھی۔ حکومت نے اس کے لیے جمعیت علمائے اسلام سمیت متعدد اپوزیشن جماعتوں کی حمایت حاصل کی تھی۔ پی ٹی آئی نے اس بل کی مخالفت کی تھی مگر پانچ ارکان حکومتی کیمپ میں چلے گئے۔

بل کی منظوری کے بعد پی ٹی آئی نے ان ارکان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس وقت وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ یہ ارکان آزاد حیثیت سے منتخب ہوئے تھے اس لیے ان پر پارٹی ڈسپلن لاگو نہیں ہوتا۔

اتوار کو جاری نوٹیفکیشنز میں کہا گیا کہ پارٹی نے 5 نومبر 2024 کو ان ارکان کو شوکاز نوٹس جاری کیے تھے تاکہ وہ وضاحت دیں کہ انہیں ڈیفیکشن کا مرتکب کیوں نہ قرار دیا جائے، مگر کسی رکن نے جواب نہیں دیا۔ اب چیئرمین پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی کے اسپیکر سے درخواست کی ہے کہ انہیں نااہل قرار دیا جائے۔

نکالے گئے ارکان اور ان کے حلقے یہ ہیں:

  • اورنگزیب کچھی (NA-159، وہاڑی-IV)
  • ظہور حسین قریشی (NA-146، خانیوال-III)
  • عثمان علی (NA-142، ساہیوال-II)
  • محمد الیاس چوہدری (NA-62، گجرات-I)
  • مبارک زیب (NA-8، باجوڑ)

پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد پارٹی ڈسپلن کو مضبوط کرنا اور اجتماعی فیصلوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے مثال قائم کرنا ہے۔

More From Author

کراچی میں آئرن راڈز اور پلوں کی گرلیں چرانے والے منشیات کے عادی افراد کے خلاف کے ایم سی کا کریک ڈاؤن

جنوبی کوریا نے پاکستانی طلبہ کیلئے مکمل فنڈڈ اسکالرشپ کا اعلان کردیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے