دو پہیوں کی سواری، عوام کی پہنچ سے باہر – موٹر سائیکل کی بڑھتی قیمتیں غریب کے لیے نیا بوجھ

کراچی: کراچی جیسے شہر میں جہاں موٹر سائیکل کو ہمیشہ سے عام آدمی کی زندگی کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا رہا ہے، آج وہی سواری ایک ناقابلِ برداشت "عیاشی” بنتی جا رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں حکومت کی جانب سے موٹر سائیکل کے پرزہ جات پر ٹیکس اور وفاقی محصولات میں اضافے نے قیمتوں کو آسمان پر پہنچا دیا ہے، اور اس کا بوجھ براہِ راست عام شہری کے کندھوں پر آ پڑا ہے۔

میں نے اس مسئلے پر صارفین اور ڈیلرز دونوں سے بات کی، اور سب کا مؤقف ایک جیسا تھا: یہ صرف قیمتوں کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ غریب آدمی سے اُس کی روزی روٹی کمانے کا ذریعہ چھیننے کے مترادف ہے۔

سوچیے، جو موٹر سائیکل چند سال پہلے تک پچاس ہزار روپے میں مل جاتی تھی، آج اُس کی قیمت ایک لاکھ روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔ کچھ ماڈلز تو ایک لاکھ پندرہ، ایک لاکھ سولہ، یہاں تک کہ ایک لاکھ اٹھارہ ہزار روپے تک جا پہنچے ہیں۔ یہ صرف نمبرز نہیں، بلکہ ہر گھرانے کے بجٹ پر پڑنے والا حقیقی اور سنگین دباؤ ہے۔

لیکن معاملہ صرف موٹر سائیکل خریدنے تک محدود نہیں۔ اس کے ساتھ جڑے اخراجات نے بھی عوام کو نچوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ایک ڈیلر نے شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ پہلے جو رجسٹریشن فیس ڈھائی ہزار روپے تھی، وہ اب بڑھ کر ساڑھے سات ہزار ہو گئی ہے۔ اُن کے الفاظ تھے: "یہ صرف زیادتی نہیں، یہ سراسر ناانصافی ہے۔”

شہریوں میں مایوسی اور بےبسی صاف جھلکتی ہے۔ بہت سے افراد نے بتایا کہ موٹر سائیکل جو کبھی اُن کے لیے سب سے سستا اور قابلِ رسائی ذریعۂ آمد و رفت تھا، اب اُن کی پہنچ سے مکمل طور پر باہر ہو چکا ہے۔ ہر نئے ٹیکس کے ساتھ، عام آدمی بنیادی سہولتوں سے مزید دور ہو رہا ہے، یہاں تک کہ اب وہ اپنا روزگار کمانے کے لیے سفر کرنے کی سکت بھی کھو بیٹھا ہے۔

ایک شہری نے تلخ لہجے میں کہا: "جو چیز پہلے پچاس ہزار کی تھی، آج اُس کی قیمت دگنی یا تگنی ہو چکی ہے۔” یہ صرف قوتِ خرید کا مسئلہ نہیں رہا، بلکہ ایک بڑے طبقے کے لیے زندگی گزارنے کی بنیادی سہولیات سے محرومی کی علامت بن چکا ہے۔

More From Author

آسیان فورم میں اسحاق ڈار کا بھارت پر کڑا وار، کشمیر کو خطے میں امن کی کنجی قرار دیا

کراچی میں عمارت گرنے کا سانحہ: غفلت، نااہلی اور انصاف کی تلاش

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے