پاکستان اور روس کے درمیان مال بردار ٹرین اگست میں روانہ ہونے کو تیار — دوطرفہ تعلقات میں ایک نیا موڑ

پاکستان اور روس کے درمیان ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جو نہ صرف دونوں ملکوں کے تعلقات کو ایک نئی جہت دے گی بلکہ خطے میں تجارتی راستوں کو بھی ازسرِنو ترتیب دینے کا آغاز بن سکتی ہے۔ دونوں ممالک اگست 2025 میں ایک پائلٹ مال بردار ٹرین چلانے کے منصوبے پر متفق ہو گئے ہیں، جو معاشی ہم آہنگی اور بڑھتے ہوئے تعاون کی علامت سمجھی جا رہی ہے۔

یہ فیصلہ ماسکو میں ہونے والی ایک اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران کیا گیا، جہاں پاکستانی وفد کی قیادت وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے خارجہ امور سید طارق فاطمی اور معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کی۔ ملاقات کے دوران جن امور پر بات چیت ہوئی ان میں سیاسی روابط، توانائی، زراعت، تجارت اور علاقائی رابطہ کاری جیسے وسیع موضوعات شامل تھے۔

دو معیشتوں کے درمیان پل — ریل کی ایک پٹڑی پر

اس ملاقات کا مرکزی نکتہ وہ مجوزہ مال بردار ریل منصوبہ تھا جو پاکستان اور روس کو ازبکستان کے ذریعے جوڑے گا۔ یہ منصوبہ، جو اب اپنے آزمائشی مرحلے کے قریب پہنچ چکا ہے، اشیاء کی نقل و حمل کو سہل بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے اور جنوبی و وسطی ایشیا کو مشرقی یورپ سے منسلک کرے گا۔

روسی نائب وزیرِ اعظم الیگزی اوورچک نے اس منصوبے کی اسٹریٹجک اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے ستمبر 2024 میں پاکستان کے دورے اور اکتوبر میں وزیرِ اعظم شہباز شریف سے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے اجلاس کے دوران ہونے والی ملاقات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ روس پاکستان کو خطے کی ترقی میں ایک "قدرتی اتحادی” سمجھتا ہے۔

"صدر پیوٹن پاکستان کو صرف ایک دوست ملک ہی نہیں بلکہ ایک اہم معاشی شراکت دار بھی تصور کرتے ہیں،” اوورچک نے کہا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ رواں برس اگست کے آخر میں چین کے شہر تیانجن میں ہونے والے SCO سربراہی اجلاس کے موقع پر ان کی وزیراعظم شہباز شریف سے اہم ملاقات متوقع ہے۔

صنعتی ورثہ اور مستقبل کے امکانات

اس موقع پر پاکستان اسٹیل ملز (PSM) کا ذکر بھی کیا گیا جو سابق سوویت یونین کی مدد سے قائم ہوئی تھی۔ ہارون اختر، جو اس منصوبے کے فوکل پرسن ہیں، نے کہا کہ اسٹیل ملز دونوں ملکوں کے تعلقات کی تاریخی علامت ہے اور کراچی میں ایک نئی اسٹیل مل کے قیام پر بات چیت جاری ہے جو مستقبل میں مشترکہ صنعتی ترقی کا نشان بن سکتی ہے۔

انہوں نے موجودہ حکومت کی سرمایہ کاری دوست صنعتی پالیسی پر روشنی ڈالی، جو معاشی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے بنائی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں توانائی، انفراسٹرکچر اور اسٹیل کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔

سیاست، پالیسی اور مستقبل کی راہ

طارق فاطمی نے پاکستان کی روس کے ساتھ تعلقات کو اولین ترجیح قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا، "ہم روس کو عالمی معاملات میں ایک استحکام لانے والی طاقت سمجھتے ہیں،” اور انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی و معاشی تعاون کو مزید وسعت دینے کی خواہش ظاہر کی۔

ملاقات میں افغانستان، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی مجموعی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ یہ تعلق صرف اقتصادی مفادات تک محدود نہیں بلکہ اس کا دائرہ وسیع تر سفارتی تعاون تک پھیلا ہوا ہے۔

تصور سے حقیقت تک

جیسے جیسے اگست قریب آ رہا ہے، دونوں ممالک میں اس منصوبے کو لے کر امیدیں بڑھتی جا رہی ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ منصوبہ تجارتی راستوں کی تنوع کاری کا آغاز ہے، جبکہ روس کے لیے یہ جنوبی ایشیا میں رسائی حاصل کرنے کا عملی موقع ہے۔

ایسے دور میں جہاں عالمی اتحاد بدلتے جا رہے ہیں اور تجارتی راستے محدود ہو رہے ہیں، پاکستان اور روس کے درمیان یہ نیا ریلوے منصوبہ خطے کے لیے ایک نیا باب ثابت ہو سکتا ہے۔

چاہے بات ہو اسٹیل کی ہو، زرعی اجناس کی یا توانائی کے شعبے کی، اگست میں روانہ ہونے والی یہ ٹرین محض مال برداری کا آغاز نہیں، بلکہ ایک نئی راہ، ایک نئی شراکت داری اور ایک نئے سفر کی پہلی پٹڑی ہے۔

More From Author

کراچی کے ریسٹورنٹ میں شلوار قمیض پہننے والے شہری کو داخلے سے روکنے پر شدید ردِعمل

لیاری میں عمارت گرنے سے 27 افراد جاں بحق، ایس بی سی اے کے 9 سینئر افسران گرفتار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے