تہران – جولائی 2025
برطانیہ نے ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عارضی طور پر بند کیا گیا تہران میں اپنا سفارتخانہ دوبارہ کھول دیا ہے۔
برطانوی دفتر خارجہ، دولت مشترکہ و ترقیاتی امور (FCDO) کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ تہران میں برطانوی سفارتخانہ دوبارہ کام شروع کر چکا ہے، کیونکہ ایرانی دارالحکومت میں سیکیورٹی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔
"علاقائی حالات کے پیش نظر سفارتی عملہ وقتی طور پر واپس بلایا گیا تھا، لیکن اب سفارتخانہ باقاعدہ طور پر اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر چکا ہے،” بیان میں کہا گیا۔
گزشتہ ماہ ایران اور اسرائیل کے مابین جنگ چھڑنے کے بعد برطانیہ نے احتیاطی تدابیر کے طور پر سفارتخانہ بند کر دیا تھا۔ اس دوران قونصلر خدمات بھی معطل کر دی گئی تھیں اور سفارتی عملہ واپس لندن بلا لیا گیا تھا۔
اسی دوران متحدہ عرب امارات نے بھی خطرات کے پیش نظر اپنے شہریوں کو ایران سے نکالنے کا عمل مکمل کر لیا تھا، جس سے خطے میں پائی جانے والی تشویش کی شدت کا اندازہ ہوتا ہے۔
اگرچہ گزشتہ کچھ دنوں میں براہ راست جھڑپوں میں کمی آئی ہے، لیکن صورتحال تاحال کشیدہ ہے۔ ایرانی افواج کو ایک ممکنہ اسرائیلی حملے کے پیش نظر مکمل الرٹ کر دیا گیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی القدس فورس، بحریہ اور بری فوج مکمل طور پر تیار ہیں اور کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے مستعد ہیں۔
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے ایک مشیر نے خبردار کیا ہے کہ "اگر ایران پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو ردعمل پہلے سے کہیں زیادہ سخت اور منظم ہوگا۔”
ایرانی فوج کے ترجمان کے مطابق ملک بھر میں خفیہ مقامات پر ہزاروں میزائل اور ڈرونز تعینات کیے جا چکے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایران کی "مضبوط دفاعی حکمت عملی” کا حصہ ہے۔
عالمی سفارتی منظرنامے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی حالیہ ملاقات نے تہران میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایرانی تجزیہ کاروں نے اس ملاقات کو "پہلے سے طے شدہ سیاسی ڈراما” قرار دیا ہے، اور دونوں رہنماؤں پر خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کا الزام لگایا ہے۔
اگرچہ برطانیہ کی جانب سے تہران میں سفارتخانہ کھولنا سفارتی روابط کی جزوی بحالی کی علامت ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم فی الحال صرف ایک تکنیکی نوعیت کا ہے، اور خطے میں جاری کشیدگی کے مستقل حل کی طرف کوئی واضح پیش رفت نہیں ہوئی۔