انگریزی تعلیم میں بہتری کے لیے برٹش کونسل اور حکومت سندھ کا اشتراک — 30 ہزار اساتذہ کی تربیت کا منصوبہ

کراچی – 27 جون 2026: سرکاری اسکولوں میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے برٹش کونسل اور محکمہ اسکول ایجوکیشن و لٹریسی (SELD)، حکومت سندھ کے درمیان ایک اہم شراکت داری کا آغاز ہو گیا ہے، جس کا مقصد صوبے بھر میں انگریزی زبان کی تدریس کے طریقہ کار کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔

جمعرات کے روز دونوں اداروں نے ایک ’لیٹر آف انٹینٹ‘ پر دستخط کیے، جس کے تحت آئندہ دنوں میں ایک جامع آپریشنل الائنس ایگریمنٹ بھی طے پائے گا۔ اس شراکت داری کے تحت حال ہی میں بھرتی کیے گئے 30 ہزار پرائمری اور ابتدائی جماعتوں کے اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت کی جائے گی، جو برٹش کونسل کے "انگلش ایز اے سبجیکٹ فار ٹیچرز اینڈ ایجوکیٹرز (EaSTE)” پروگرام کے ذریعے فراہم کی جائے گی۔

یہ پروگرام اساتذہ کو ایسا علم اور ہنر دے گا جس سے وہ انگریزی سمیت دیگر زبانوں کو جدید، جامع اور کثیر لسانی طریقوں سے پڑھا سکیں گے — جو سندھ کے متنوع لسانی اور ثقافتی ماحول سے ہم آہنگ ہو۔

برٹش کونسل پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر، جیمز ہیمپسن نے اس موقع پر کہا:
"یہ معاہدہ ہماری حکومت سندھ کے ساتھ شراکت داری کا تسلسل ہی نہیں بلکہ اس کا ایک نیا اور اہم مرحلہ ہے۔ ہمارا مشترکہ ہدف ہے کہ 30 ہزار اساتذہ اور 20 لاکھ بچوں کو فائدہ پہنچایا جائے — اور ہم اس سفر کے لیے پُرعزم ہیں۔”

وزیر تعلیم سندھ، سردار علی شاہ نے کہا کہ تعلیم میں بہتری کا اصل انحصار اساتذہ کی قابلیت پر ہے۔
"ہماری توجہ صرف رسائی (Access) پر نہیں بلکہ معیار (Quality) پر بھی ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے ہم اپنے اساتذہ کو وہ اوزار دے رہے ہیں جن کی مدد سے وہ انگریزی کو بہتر انداز میں، مقامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے پڑھا سکیں گے۔”

اس پروگرام کا ایک اہم جزو ایک جدید ڈیجیٹل لرننگ مینجمنٹ سسٹم (LMS) کا قیام ہے، جس کی مدد سے اساتذہ کو مسلسل تربیت اور سیکھنے کے مواقع میسر آئیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ 1,000 موجودہ اساتذہ کو بطور رہنما (Mentors) تربیت دی جائے گی، تاکہ وہ ساتھی اساتذہ کو عملی رہنمائی اور مدد فراہم کر سکیں۔

یہ شراکت داری برٹش کونسل کے اس طویل سفر کا تسلسل ہے جو وہ پاکستان میں تعلیم و تربیت کے میدان میں برسوں سے جاری رکھے ہوئے ہے۔ پنجاب میں EaSTE پروگرام پہلے ہی کامیابی سے نافذ ہو چکا ہے، جہاں اس نے 1,40,000 سے زائد اساتذہ کی تربیت میں کردار ادا کیا۔

سندھ میں اس پروگرام کا آغاز اس بات کی علامت ہے کہ اب پائیدار ترقی اور تعلیمی بہتری کے لیے اساتذہ کی مسلسل تربیت کو ناگزیر سمجھا جا رہا ہے — خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں وسائل کم اور زبانوں کا تنوع زیادہ ہے۔ بین الاقوامی مہارت اور مقامی تجربے کو یکجا کر کے، برٹش کونسل اور محکمہ تعلیم سندھ ایک ایسا نظام تشکیل دینے جا رہے ہیں جو نہ صرف اساتذہ بلکہ لاکھوں طلبہ کے مستقبل کو بہتر بنانے کی بنیاد رکھے گا

More From Author

200 کے قریب ممالک کا اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی بجٹ میں 10 فیصد اضافے پر اتفاق، چین کا حصہ بھی بڑھ گیا

ہنزہ میں اچانک سیلاب، "لیکزس ہوٹل” زیرِ آب، سیاح بحفاظت نکال لیے گئے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے