پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور اعلیٰ سطحی پارلیمانی وفد کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان نے یورپی یونین کو امن کا واضح پیغام دیا ہے اور بھارت کے ساتھ تمام مسائل خصوصاً کشمیر، دہشتگردی اور پانی کے تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا ہے۔
برسلز میں یورپی پارلیمنٹ کی بین الاقوامی تجارت کی کمیٹی کے چیئرمین برنڈ لانگے سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول نے کہا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں — تمام تنازعات کا حل صرف مذاکرات میں ہے۔
انہوں نے ملاقات کے دوران بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور اسے بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ یورپی یونین بھی عالمی معاہدوں کے احترام پر یقین رکھتی ہے۔
اس موقع پر ماحولیاتی تبدیلی کے وزیر مصدق ملک نے کہا کہ بھارت کو سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر ختم کرنے کا کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں۔
وفد کے رکن جلیل عباس جیلانی نے اُمید ظاہر کی کہ یورپی یونین پاکستان کو GSP Plus اسٹیٹس کے سلسلے میں مکمل تعاون فراہم کرے گی، جو برآمدات کے لیے نہایت اہم ہے۔
حنا ربانی کھر اور سینیٹر فیصل سبزواری کی قیادت میں پاکستانی وفد نے بیلجئیم کی وزارتِ خارجہ میں بریجٹ اسٹیونز سے ملاقات کی۔ ملاقات میں جنوبی ایشیا کی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا، اور وفد نے خبردار کیا کہ پانی کو ہتھیار بنانا خطرناک مثال قائم کرے گا اور اس کے انسانی نتائج سنگین ہوں گے۔
وفد نے پاکستان کی بردباری، ذمہ داری، اور امن کے عزم کو دہرایا اور واضح کیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کرنا ضروری ہے۔
اس دوران پاکستان اور بیلجئیم کے دوطرفہ تعلقات پر بھی بات ہوئی اور سیاسی، معاشی، اور ترقیاتی شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر گفتگو ہوئی۔
ایک اور ملاقات میں، جس کی قیادت سینیٹر شیری رحمان اور انجینئر خرم دستگیر نے کی، وفد نے یورپی کمیشن کی حکام لوسی سستاکووا اور نٹیویداد لورینزو سے ملاقات کی۔
اس موقع پر سندھ طاس معاہدے کو مؤخر کرنے کے ممکنہ انسانی اور قانونی اثرات پر تشویش ظاہر کی گئی، اور عالمی معاہدوں کی پاسداری پر زور دیا گیا۔
وفد نے یورپی یونین کے MIP اور گلوبل گیٹ وے ترقیاتی پروگرامز کو سراہتے ہوئے عالمی ترجیحات میں پاکستان کی وابستگی کو بھی دہرایا۔ آخر میں، وفد نے تمام دوست ممالک سے اپیل کی کہ وہ بھارت پر زور دیں کہ وہ مذاکرات کے ذریعے تمام مسائل حل کرے اور بین الاقوامی قوانین کی پابندی کرے