سندھ کا 1,018 ارب روپے کا بجٹ آج پیش ہوگا — تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کی توقع

کراچی:
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ آج (جمعہ) صوبائی اسمبلی میں مالی سال 2025-26 کے لیے 1,018 ارب روپے کا بجٹ پیش کریں گے۔ ترقیاتی بجٹ کو 493 ارب روپے سے بڑھا کر 520 ارب روپے کرنے کی تجویز ہے، جبکہ ضلعی سطح کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 55 ارب روپے مختص کیے جائیں گے۔

قائم مقام گورنر سندھ اویس قادر شاہ نے سہ پہر 3 بجے سندھ اسمبلی کا اجلاس طلب کیا ہے۔ اس سے قبل، صوبائی کابینہ صبح 10 بجے بجٹ کی منظوری کے لیے اجلاس کرے گی۔

ذرائع کے مطابق، بجٹ میں ٹیکس وصولیوں کے ہدف میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کی توقع ہے۔ ساتھ ہی نئے ٹرانسپورٹ منصوبے بھی شروع کیے جائیں گے۔

ترقیاتی منصوبوں کی مالی مدد کے لیے 366 ارب روپے غیر ملکی فنڈنگ سے اور 76 ارب روپے وفاقی سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) سے حاصل ہوں گے۔ نان ڈیولپمنٹ بجٹ کا تخمینہ 2,000 ارب روپے ہے۔

اس میں سے 400 ارب روپے 3,642 ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیے جائیں گے، جن میں 3,161 جاری منصوبوں کے لیے 331 ارب اور 481 نئے منصوبوں کے لیے 119 ارب روپے شامل ہیں۔ موجودہ سال کے فنڈز شامل کرنے کے بعد سالانہ ترقیاتی پروگرام کا مجموعی حجم 1,264 ارب روپے تک پہنچ جائے گا، جو گزشتہ سال 1,165 ارب روپے تھا۔ ان میں سے 1,350 منصوبوں کو مکمل فنڈنگ دی جائے گی۔

غیر ملکی امداد سے چلنے والے 27 منصوبوں کے لیے 366 ارب روپے رکھے گئے ہیں، جن میں سے 44 ارب سندھ حکومت دے گی۔ وفاقی حکومت 10 منصوبوں کے لیے 76 ارب روپے دے گی۔

شعبہ وار فنڈز کی تقسیم:

  • تعلیم: 102 ارب روپے
  • صحت: 45 ارب روپے
  • آبپاشی: 83 ارب روپے
  • بلدیاتی حکومتیں: 132 ارب روپے
  • ورکس اینڈ سروسز: 143 ارب روپے
  • توانائی: 36 ارب روپے
  • زراعت و لائیو اسٹاک: 22 ارب روپے
  • ٹرانسپورٹ: 59 ارب روپے
  • پبلک ہیلتھ انجینئرنگ: 24 ارب روپے
  • ثقافت، سیاحت، کھیل و نوجوان: 6 ارب روپے

مزید 160 ارب روپے مختلف سرکاری محکموں کی ترقیاتی اسکیموں کے لیے رکھے گئے ہیں، جن میں داخلہ، زراعت، جیل خانہ جات، اور توانائی کے محکمے شامل ہیں۔

ورکس اینڈ سروسز ڈپارٹمنٹ کو 675 منصوبوں کے لیے 80 ارب روپے ملنے کی توقع ہے۔ داخلہ کو 11 ارب، صحت کو 51 ارب اور اسکول ایجوکیشن کو 8 ارب روپے دیے جائیں گے۔

دیگر شعبوں کے لیے مختص رقم:

  • زراعت، سپلائی و قیمتیں: 60 اسکیموں کے لیے 9.7 ارب روپے
  • لائیوسٹاک و فشریز: 38 اسکیموں کے لیے 4.9 ارب روپے
  • ثقافت، سیاحت، آثار قدیمہ: 44 اسکیموں کے لیے 2.8 ارب روپے
  • کھیل و نوجوان: 210 اسکیموں کے لیے 6.5 ارب روپے
  • سروسز و جنرل ایڈمن: 77 اسکیموں کے لیے 39 ارب روپے
  • انڈسٹری و کامرس: 1.8 ارب روپے
  • انویسٹمنٹ: 2 اسکیموں کے لیے 0.4 ارب روپے
  • توانائی: 16 اسکیموں کے لیے 12.8 ارب روپے
  • پلاننگ و ڈیولپمنٹ: 28 اسکیموں کے لیے 12.7 ارب روپے

More From Author

میٹا نے 28 سالہ Scale AI کے CEO کو اپنی ٹیم میں شامل کر لیا

کراچی میں آج "محسوس ہونے والا” درجہ حرارت 49 ڈگری تک جا سکتا ہے — پری مون سون ہوائیں جلد متوقع

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے