پاکستان کے معروف ایتھلیٹ عرشَد ندیم نے ریاض میں گولڈ میڈل جیت کر ایک بار پھر ملک کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے اور اپنی شاندار کارکردگی میں ایک اور سنہرا باب کا اضافہ کیا ہے۔
میڈل جیتنے کے بعد گفتگو کرتے ہوئے عرشَد ندیم نے نہایت جذباتی انداز میں بتایا کہ پوڈیم پر کھڑے ہو کر جب پاکستان کا جھنڈا ان کے سر کے اوپر بلند ہوتا ہے تو وہ لمحہ الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق زندگی میں اس سے بڑھ کر کوئی احساس نہیں۔ ان کی یہ بات سن کر پاکستان بھر میں شائقین نے نہ صرف خوشی کا اظہار کیا بلکہ سوشل میڈیا پر بھی انہیں بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا۔
عرشَد نے سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر احمد فاروق کا بھی خصوصی شکریہ ادا کیا جنہوں نے تقریب میں انہیں میڈل پہنایا۔ انہوں نے کہا کہ سفیر کے حوصلہ افزا الفاظ اور بیرونِ ملک پاکستانی کمیونٹی کی محبت انہیں ہر بار مزید محنت کرنے کی طاقت دیتی ہے۔
انہوں نے اپنا گولڈ میڈل پوری قوم کے نام کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام نے ہر مشکل مرحلے میں — چاہے وہ انجری ہو، ٹریننگ کا دباؤ ہو یا بین الاقوامی مقابلوں کا چیلنج — ہمیشہ ان کا ساتھ دیا۔ عرشَد نے عزم ظاہر کیا کہ وہ مزید محنت کریں گے اور پاکستان کے لیے مزید کامیابیاں حاصل کریں گے۔
یہ جیت صرف ایک کھلاڑی کی کامیابی نہیں بلکہ پوری قوم کے لیے باعثِ فخر لمحہ ہے۔ عرشَد ندیم کا سفر آج بھی بے شمار نوجوان کھلاڑیوں کے لیے امید اور حوصلے کی مثال بنا ہوا ہے کہ لگن اور لگاتار کوشش سے عالمی سطح پر ہر منزل حاصل کی جا سکتی ہے۔
ریاض میں اس سنہری کامیابی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ پاکستان کا ٹیلنٹ دنیا کے کسی بھی بڑے اسٹیج پر بھرپور روشنی کے ساتھ اُبھر سکتا ہے — اور اب قوم انہیں آنے والے مقابلوں میں مزید بلندیوں پر دیکھنے کے لیے پرجوش ہے۔