کراچی کی سیکیورٹی کے نظام پر ایک بار پھر سوال اٹھ گئے ہیں، جب بلاؤل ہاؤس کے قریب کلفٹن کے علاقے میں سیف سٹی کیمروں سے منسلک ایک ڈسٹری بیوشن باکس چوری کر لیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ سی راک اپارٹمنٹس کے قریب اس مقام پر پیش آیا جہاں کیمرے ابھی تک فعال نہیں ہوئے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کرین لگی ہوئی گاڑی میں آئے تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ واردات اچانک نہیں بلکہ منصوبہ بندی کے ساتھ کی گئی۔
ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق چوری کیا گیا باکس خاصی بلندی پر نصب تھا، اس لیے اسے کسی ایک شخص کے لیے اتارنا ممکن نہیں تھا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ علاقے میں مناسب لائٹنگ اور نجی سی سی ٹی وی کیمرے موجود نہیں تھے، جس کی وجہ سے ملزمان کی شناخت میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور اس گاڑی کی تلاش جاری ہے جو واردات میں استعمال ہوئی تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ جیسے ہی گاڑی کا سراغ ملے گا، گروہ تک پہنچنا آسان ہو جائے گا۔
سیف سٹی پروجیکٹ، جو 2024 میں شروع کیا گیا تھا، کراچی بھر میں جدید نگرانی کے نظام کے ذریعے سیکیورٹی بہتر بنانے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت شہر بھر میں ہائی ٹیک کیمرے اور مانیٹرنگ سسٹمز نصب کیے جا رہے ہیں تاکہ پولیس جرائم اور ہنگامی صورتحال میں بروقت کارروائی کر سکے۔
تاہم، اس نوعیت کی چوری نے ایک بار پھر یہ ظاہر کر دیا ہے کہ نئے سیکیورٹی انفراسٹرکچر کی حفاظت خود ایک بڑا چیلنج ہے۔ حکام کے مطابق اس واقعے کے باوجود منصوبے کو ڈی ایچ اے، ساؤتھ، ایسٹ اور ملیر سمیت دیگر اہم علاقوں میں وسعت دینے کا عمل جاری رہے گا۔
پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ آئندہ تمام مقامات پر سیکیورٹی مزید سخت کی جائے گی تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔