پاکستان میں بھارتی یاتریوں کا والہانہ استقبال، سرحدی کشیدگی کے باوجود بھائی چارے کی مثال

ننکانہ صاحب ننکانہ صاحب کی گلیاں بدھ کے روز دلہن کی طرح سجائی گئیں، بینرز لہرا رہے تھے اور ہر سمت گیندے کے پھولوں کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ یہاں ہزاروں سکھ یاتری اپنے مذہب کے بانی گرو نانک کی 556ویں جنم دن کی تقریب منانے کے لیے جمع ہوئے عقیدت، محبت اور امید سے لبریز ماحول میں۔

یہ یاترا خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ یہ مئی میں ہونے والی ہلاکت خیز جھڑپوں کے بعد پہلا بڑا موقع ہے جب بھارتی سکھ پاکستان آئے ہیں۔ ان جھڑپوں میں 70 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے اور دونوں ممالک کے درمیان زمینی راستہ بند کردیا گیا تھا۔ مگر ان تمام حالات کے باوجود، یاتریوں نے پاکستانی عوام کے رویے کو “دل موہ لینے والا” قرار دیا۔

“ہمیں خدشہ تھا کہ پاکستان میں ماحول کیسا ہوگا، لوگ ہمیں کیسا سمجھیں گے,” امرتسر سے آئی 46 سالہ اندر جیت کور نے بتایا۔ “لیکن یہاں ہمیں محبت اور احترام ملا ایسا لگا جیسے ہم اپنے ہی گھر میں ہیں۔”

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، تقریباً 40 ہزار زائرین گرو نانک کے جنم استھان گردوارے میں جمع ہوئے۔ گردوارے کی دیواریں پھولوں سے سجی تھیں، ہر سمت مذہبی گیتوں کی آواز گونج رہی تھی۔ مرد و خواتین عقیدت سے عبادت میں مصروف تھے، کئی زائرین مقدس حوض میں غسل بھی کر رہے تھے۔

“یہاں کسی خوف کی فضا نہیں,” دہلی سے آئے بزرگ ہرجندر پال سنگھ نے کہا۔ “جس جوش سے ہم گرو نانک کا جنم دن بھارت میں مناتے ہیں، یہاں بھی ویسے ہی عقیدت سے منایا جا رہا ہے۔”

گردوارے کے باہر مسلمان اور ہندو نوجوانوں نے ڈھول کی تھاپ پر سکھ یاتریوں کے ساتھ رقص کیا۔
“ہمیں صرف ایک سرحد جدا کرتی ہے، دلوں میں کوئی فاصلہ نہیں,” ہرجندر نے مسکراتے ہوئے کہا۔

انہی لمحات میں ایک ایسا منظر بھی دیکھنے میں آیا جس نے سب کو جذباتی کر دیا۔ 90 سالہ محمد بشیر اپنے پوتوں کے ساتھ کھڑے کسی کو تلاش کر رہے تھے — شرادہ سنگھ، ایک سکھ یاتری، جن کے والد اور بشیر کے والد قیام پاکستان سے پہلے قریبی دوست تھے۔ دونوں خاندان 1947 میں جدا ہوگئے تھے، مگر خط و کتابت کے ذریعے رابطہ قائم رہا۔

جب شرادہ سنگھ بھیڑ سے نکل کر سامنے آئے، دونوں بزرگ ایک دوسرے کی طرف لپکے، گلے ملے اور آبدیدہ ہوگئے۔
“میں نے سوچا تھا تم سے ملے بغیر ہی چلا جاؤں گا,” بشیر نے روتے ہوئے کہا۔ “لیکن اب سکون ہے، تمہیں دیکھ لیا۔”

شرادہ سنگھ نے بھی نم آنکھوں سے جواب دیا: “یہ لمحہ برسوں سے خواب تھا۔ یہاں جو محبت ملی ہے، وہ الفاظ سے بالاتر ہے۔ عوام میں فرق نہیں، سیاست میں ہے۔”

گردوارے کے باورچی خانوں میں مرد و خواتین یاتریوں کے لیے لنگر تیار کر رہے تھے۔ بڑے دیگچوں میں چاول، دالیں اور میٹھے پک رہے تھے جنہیں ہر مذہب کے افراد کو یکساں طور پر پیش کیا گیا۔ شہر کی گلیوں میں جلوس نکلا تو مسلمانوں نے چھتوں سے گلاب کی پتیاں نچھاور کیں، جبکہ آسمان سے ایک جہاز نے بھی پھول برسا کر مناظر کو مزید روح پرور بنا دیا۔

“ہم اس مقدس سرزمین سے محبت کرتے ہیں,” بھارتی یاتری گیانی کلدیپ سنگھ نے کہا۔ “یہ ہمارے گرو کی دھرتی ہے، ہمارا پیغام امن اور بھائی چارے کا ہے۔”

پاکستان کے وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا: “مذہب انفرادی معاملہ ہے، مگر انسانیت مشترک ہے۔ ہمارے در ہمیشہ سکھ بھائیوں کے لیے کھلے رہیں گے۔”

یہ تقریبات نومبر کے آخر تک جاری رہیں گی، جن میں کرتارپور میں بھی بڑی تقاریب شامل ہیں جہاں گرو نانک کی آخری آرام گاہ واقع ہے۔ تاہم کرتارپور راہداری مئی سے بھارتی جانب سے بند ہے، مگر یاتریوں کی امید ہے کہ محبت کی یہ فضا جلد اس راستے کو بھی کھول دے گی۔

More From Author

اٹلی نے پانچ ہزار سال پرانے نوادرات پاکستان کے حوالے کر دیے

پاکستانی کمپنیاں چین کے بین الاقوامی درآمدی نمائش میں شاندار کامیابیاں سمیٹ رہی ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے