متحدہ عرب امارات کا پاکستان میں تین جدید کھجور پراسیسنگ پلانٹس قائم کرنے کا اعلان

پاکستان کے زرعی شعبے کے لیے ایک بڑی خوشخبری کے طور پر متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے پاکستان میں تین جدید کھجور پراسیسنگ پلانٹس قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان نئی زرعی شراکت داری کا حصہ ہے، جسے جلد ہی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے ذریعے باضابطہ شکل دی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق، وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی رانا تنویر حسین نے یو اے ای کے حکام سے تفصیلی مذاکرات کیے ہیں تاکہ منصوبے کے مختلف پہلوؤں کو حتمی شکل دی جا سکے۔ اس تعاون کا بنیادی مقصد پاکستان کی کھجوروں کی صنعت میں ویلیو ایڈیشن کو فروغ دینا ہے یعنی خام کھجوروں کو جدید طریقوں سے پراسیس کر کے ایسے اعلیٰ معیار کی مصنوعات تیار کرنا جو بین الاقوامی منڈیوں میں بہتر قیمت پر فروخت ہو سکیں۔

یہ تین پلانٹس سندھ اور بلوچستان کے ان اہم علاقوں میں قائم کیے جائیں گے جہاں پاکستان کی زیادہ تر کھجور پیدا ہوتی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی سے لیس یہ پلانٹس کھجوروں کی صفائی، درجہ بندی، پیکنگ اور تحفظ کے مراحل کو بین الاقوامی معیار کے مطابق انجام دیں گے۔

پاکستان اس وقت سالانہ پانچ لاکھ ٹن سے زائد کھجوریں پیدا کرتا ہے اور دنیا کے بڑے کھجور پیدا کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ تاہم، اس کی سالانہ برآمدات تقریباً 50 ملین ڈالر تک محدود ہیں کیونکہ زیادہ تر کھجوریں بغیر پراسیسنگ کے خام حالت میں برآمد کی جاتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق، یو اے ای کی سرمایہ کاری اور تکنیکی معاونت سے پاکستان اپنی کھجوروں کی برآمدی قدر میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے۔ پراسیس شدہ اور پیک کی گئی کھجوریں بین الاقوامی مارکیٹ میں خام کھجوروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ منافع بخش ثابت ہوتی ہیں۔

یو اے ای، جو دنیا بھر میں کھجور پراسیسنگ اور مارکیٹنگ میں ممتاز حیثیت رکھتا ہے، اس تعاون کے ذریعے پاکستان کو جدید ٹیکنالوجی اور انتظامی مہارت منتقل کرے گا۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ نہ صرف پاکستان کی زرعی مسابقت میں اضافہ کرے گا بلکہ سندھ اور بلوچستان کے دیہی علاقوں میں روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ اقدام پاکستان اور یو اے ای کے درمیان پہلے سے مضبوط اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا۔

اس شراکت داری کے ذریعے دونوں ممالک کا ہدف ہے کہ پاکستان کی قدرتی کھجور پیداوار کو ایک پائیدار اور منافع بخش برآمدی صنعت میں بدلا جائے جو زرعی کاروبار اور فوڈ ٹیکنالوجی میں علاقائی تعاون کی ایک نئی مثال بنے۔

More From Author

پاکستان کی 10 فیصد امیر ترین آبادی ملک کی 42 فیصد دولت پر قابض، آکسفیم رپورٹ

وفاقی ملازمین کے لیے خوشخبری: حکومت نے ہاؤس رینٹ سیلنگ میں 85 فیصد اضافہ منظور کر لیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے