نادرا کا اہم اعلان: پہلی شناختی کارڈ کی مفت فراہمی، 15 دن میں کارڈ حاصل کریں

اسلام آباد: حکومتِ پاکستان نے شہریوں کے لیے ایک بڑی سہولت متعارف کرائی ہے۔ نادرا (نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی) نے اعلان کیا ہے کہ جو افراد پہلی بار کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (CNIC) کے لیے درخواست دیں گے، وہ اب یہ کارڈ بالکل مفت صرف 15 دن میں حاصل کر سکیں گے۔

نادرا کی تصدیق شدہ فیس بک پوسٹ کے مطابق، وہ تمام پاکستانی شہری جو 18 سال کی عمر کو پہنچ چکے ہیں یا جن کے پاس ابھی تک شناختی کارڈ نہیں ہے، وہ کسی بھی قریبی نادرا مرکز جا کر اپنا کارڈ بنوا سکتے ہیں۔ انہیں کسی قسم کی فیس ادا نہیں کرنی ہوگی اور کارڈ دو ہفتوں کے اندر فراہم کر دیا جائے گا۔

قانون کے مطابق، پاکستان میں ہر شہری 18 سال کی عمر مکمل کرنے کے بعد قومی شناختی کارڈ حاصل کرنے کا اہل ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ عام انتخابات میں ووٹ دینے کے حق دار بھی بن جاتے ہیں۔

نادرا نے اس کے ساتھ ساتھ اکتوبر 2025 کے لیے شناختی کارڈ اور اسمارٹ کارڈ کی تجدید (renewal) کی نئی فیس بھی جاری کر دی ہے۔

کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (CNIC) کی تجدید کی فیس:

  • نارمل: 400 روپے – کارڈ 15 دن میں دستیاب ہوگا
  • ارجنٹ: 1,150 روپے – کارڈ 12 دن میں دستیاب ہوگا
  • ایگزیکٹو: 2,150 روپے – کارڈ 6 دن میں دستیاب ہوگا

اسمارٹ شناختی کارڈ (Smart ID Card) کی تجدید کی فیس:

  • نارمل: 750 روپے – کارڈ 31 دن میں دستیاب ہوگا
  • ارجنٹ: 1,500 روپے – کارڈ 15 دن میں دستیاب ہوگا
  • ایگزیکٹو: 2,500 روپے – کارڈ 9 دن میں دستیاب ہوگا

نادرا کا کہنا ہے کہ نئی فیس ساخت شہریوں کے لیے زیادہ سہولت اور انتخاب کی آزادی فراہم کرتی ہے۔ لوگ اپنی ضرورت کے مطابق کم خرچ یا تیز رفتار سروس کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ جو افراد فوری طور پر کارڈ حاصل کرنا چاہتے ہیں، ان کے لیے ایگزیکٹو سروس بہترین آپشن ہے، جس کے تحت کارڈ چند دنوں میں مل جاتا ہے۔

نادرا پاکستان بھر میں شناختی کارڈز اور دیگر اہم دستاویزات کے اجرا میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔ قومی شناختی کارڈ نہ صرف سرکاری سہولیات تک رسائی کے لیے ضروری ہے بلکہ ووٹ ڈالنے، قانونی شناخت اور مختلف اداروں میں رجسٹریشن کے لیے بھی بنیادی دستاویز سمجھا جاتا ہے۔

پہلی بار شناختی کارڈ مفت فراہم کرنے کا یہ اقدام حکومت کی جانب سے ایک قابلِ تحسین قدم ہے، جس کا مقصد نوجوانوں اور کم آمدنی والے شہریوں کے لیے رجسٹریشن کا عمل آسان بنانا ہے تاکہ ہر پاکستانی شہری قومی ڈیٹا بیس میں باقاعدہ طور پر شامل ہو سکے۔

More From Author

انڈس موٹر کا منافع 32 فیصد بڑھ گیا، آٹو سیکٹر میں بحالی کے آثار نمایاں

پی ایس ایل میں بڑی تبدیلی آٹھ ٹیمیں اور چھ مقامات، نیا دور شروع ہونے کو تیار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے