اسلام آباد – پاکستان اور قطر کے درمیان اقتصادی و اسٹریٹیجک تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے 3 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے متعلق ایک تاریخی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ یہ معاہدہ قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی (QIA) اور دیگر قطری اداروں کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے روڈ میپ کے طور پر سامنے آیا ہے۔ دونوں ممالک کے وزرائے تجارت پاکستان کے جام کمال خان اور قطر کے شیخ فیصل بن ثانی بن فیصل آل ثانی نے اسلام آباد میں منعقدہ پاکستان-قطر مشترکہ وزارتی کمیشن (JMC) کے چھٹے اجلاس کے اختتام پر اس پروٹوکول پر دستخط کیے۔
یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے اور قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی (QIA) اور پاکستان کے اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل (SIFC) کے درمیان شراکت داری کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کے تحت دونوں ممالک نے ٹرانسپورٹ، صحت، تعلیم، ثقافت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور افرادی قوت کی منتقلی جیسے اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کے فروغ پر اتفاق کیا ہے، جو طویل المدتی معاشی ترقی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے نمایاں شعبوں میں جدید عوامی ٹرانسپورٹ نظام کی ترقی شامل ہے، جس میں الیکٹرک اور ہائیڈروجن سے چلنے والی گاڑیوں کے منصوبے اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت سڑکوں کی تعمیر کے منصوبے شامل ہیں۔ تعلیم اور فنی تربیت کے شعبے میں بھی قریبی تعاون پر اتفاق ہوا ہے تاکہ ہنرمند افرادی قوت کو فروغ دیا جا سکے اور دونوں ملکوں کے درمیان ورک فورس ایکسچینج کو وسعت دی جا سکے۔
صحت کے میدان میں بھی شراکت داری کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا ہے، جس کے تحت پاکستانی طبی ماہرین کے لیے قطر میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں گے، جبکہ پاکستانی ادویہ ساز کمپنیوں کو قطری مارکیٹ تک بہتر رسائی حاصل ہوگی۔ اسی طرح دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی اور میڈیا تعلقات کو فروغ دینے کے لیے “ایئر آف کلچر” پروگرام متعارف کرانے اور ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان اور قطر نیوز ایجنسی کے درمیان تعاون کے معاہدے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔
پروٹوکول میں ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن، ای گورننس اور آئی ٹی کے شعبوں میں تعاون کو بھی مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔ افرادی قوت کی منتقلی کے حوالے سے، جو دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ شراکت داری کا حصہ ہے، مزید بہتری کے لیے اقدامات کیے جائیں گے تاکہ پاکستانی ورکرز کے لیے قطر میں روزگار کے مزید مواقع پیدا کیے جا سکیں۔
دونوں وزرائے تجارت نے پائیدار ترقی، اختراع اور سرمایہ کاری پر مبنی تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف مالی تعاون کا نہیں بلکہ باہمی اعتماد، شراکت اور مشترکہ ترقی کے عزم کی ایک نئی علامت ہے۔