ملک کے پیداواری شعبوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے حکومت نے ایک بڑا قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت صنعتوں اور زرعی شعبے کے لیے بجلی کی قیمتوں میں 10 روپے فی یونٹ سے زائد کمی کی جائے گی۔ یہ منصوبہ تین سال کے لیے ہوگا، جو یکم نومبر 2025 سے نافذ ہوگا اور 31 اکتوبر 2028 تک جاری رہے گا۔
ذرائع کے مطابق، اس پیکیج کے تحت اضافی بجلی کے استعمال پر رعایتی نرخ فراہم کیے جائیں گے تاکہ صنعتی پیداوار میں اضافہ ہو اور کسانوں کے اخراجات میں کمی لائی جا سکے۔ اس اقدام کا مقصد پیداواری لاگت کم کرنا، برآمدات کو فروغ دینا اور کاروباری سرگرمیوں کو دوبارہ مستحکم کرنا ہے۔
وزیرِاعظم شہباز شریف جمعرات کے روز اس منصوبے کا باضابطہ اعلان کریں گے۔ حکومت کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ توانائی کے نرخوں میں کمی سے نہ صرف صنعتی مسابقت میں بہتری آئے گی بلکہ معیشت کو بھی نئی جان ملے گی۔
ایک سرکاری عہدیدار کے مطابق، “یہ صرف ریلیف نہیں بلکہ معیشت کو دوبارہ رفتار دینے کی کوشش ہے۔ سستی توانائی صنعتی ترقی اور عالمی مارکیٹ میں پاکستان کے مقابلے کی صلاحیت کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔”
یہ منصوبہ حکومت کی اُس جامع معاشی حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دینا، برآمدی صلاحیت میں اضافہ کرنا اور پائیدار اقتصادی ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔