اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت بتدریج استحکام کی طرف گامزن ہے، مہنگائی کی شرح سنگل ڈیجٹ میں آنے کے ساتھ زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی نمایاں بہتری دیکھنے میں آرہی ہے۔
جی ٹی این ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان نے معاشی میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، جن کا کریڈٹ جاری اصلاحاتی اقدامات اور بہتر مالی نظم و ضبط کو جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “معاشی استحکام نے ہمارے ذخائر کو مضبوط کیا ہے اور سرمایہ کاری کے لیے زیادہ سازگار ماحول پیدا کیا ہے۔”
پاکستان اور چین کے اشتراک کا ذکر کرتے ہوئے اورنگزیب نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کو “علاقائی گیم چینجر” قرار دیا۔ ان کے مطابق، سی پیک کے دوسرے مرحلے میں خاطر خواہ پیش رفت ہوئی ہے۔ “حال ہی میں بیجنگ میں 24 مشترکہ منصوبوں پر معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں، جو پاک چین تعلقات میں ایک اہم سنگ میل ہے،” انہوں نے بتایا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی کی شرح اب سنگل ڈیجٹ میں آچکی ہے، جو عوام کے لیے کئی مہینوں کے بعد ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران ملک کی معاشی شرح نمو 3 فیصد رہی، اور حکومت پُرامید ہے کہ یہ رفتار برقرار رہے گی۔ “تین بڑی عالمی ریٹنگ ایجنسیوں نے بھی پاکستان کی معیشت کو مستحکم قرار دیا ہے،” ان کا کہنا تھا۔
انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کے لیے حکومت نے 4 فیصد کی شرح نمو کا ہدف مقرر کیا تھا، تاہم حالیہ سیلابوں کے باعث معمولی کمی کا خدشہ ہے۔ “اس کے باوجود ہم پُرامید ہیں کہ 3.5 فیصد کی شرح نمو حاصل کرلی جائے گی،” وزیر خزانہ نے کہا۔
محمد اورنگزیب نے عالمی سطح پر تیزی سے بدلتے حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی اس وقت پائیدار ترقی کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ ان کے مطابق، “دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ عالمی کوششوں کی ضرورت ہے۔ کوئی ملک اکیلا اس مسئلے کو حل نہیں کرسکتا۔”
وزیر خزانہ نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت اپنے اصلاحاتی ایجنڈے پر عمل جاری رکھے گی، غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دے گی اور ملک کو ایک پائیدار اور جامع معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کرے گی۔