اسلام آباد – پاکستان کے انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کے شعبے نے ایک تاریخی کامیابی حاصل کی ہے، جہاں ستمبر کے مہینے میں برآمدات 366 ملین ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ وزیرِ خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کے مطابق یہ اضافہ ملکی کرنسی کے استحکام اور پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کے عالمی سطح پر پھیلتے ہوئے کاروبار کا نتیجہ ہے۔
وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کے اعداد و شمار کے مطابق، جولائی سے ستمبر کے دوران پاکستان کی آئی سی ٹی برآمدات میں 180 ملین ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے کل حجم 1.057 ارب ڈالر تک جا پہنچا۔ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ حجم 877 ملین ڈالر تھا۔
پاکستان گزشتہ چند برسوں سے معیشت کو بحران سے نکالنے کے لیے مختلف ترجیحی شعبوں، خاص طور پر آئی ٹی سیکٹر میں، غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ اس دوران کئی پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے بین الاقوامی منڈیوں خصوصاً خلیجی ممالک (GCC) میں اپنی موجودگی کو مضبوط کیا ہے۔
خرم شہزاد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا،
“پاکستان کی آئی ٹی اور ٹیکنالوجی برآمدات نے ستمبر 2025 میں 366 ملین ڈالر کی تاریخی حد عبور کر لی ہے۔”
وزارتِ آئی ٹی نے بھی اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ اعداد و شمار گزشتہ سال ستمبر 2024 میں ریکارڈ کیے گئے 292 ملین ڈالر کے مقابلے میں 25.3 فیصد اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔
کراچی کی معروف بروکریج فرم ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ستمبر کی برآمدات پچھلے 12 مہینوں کی اوسط یعنی 326 ملین ڈالر سے کہیں زیادہ ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025 کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی آئی ٹی برآمدات 1.06 ارب ڈالر رہیں، جو کہ سال بہ سال 21 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق اس نمایاں ترقی کے چند اہم عوامل یہ ہیں:
- پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کی عالمی منڈیوں خصوصاً خلیجی خطے میں کلائنٹ بیس میں اضافہ۔
- اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے برآمد کنندگان کے خصوصی غیر ملکی اکاؤنٹس میں رقم رکھنے کی حد کو 35 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد کرنا۔
- ان غیر ملکی اکاؤنٹس کے ذریعے بیرونِ ملک سرمایہ کاری کی اجازت دینا۔
- روپے کے استحکام نے آئی ٹی برآمد کنندگان کو اپنی زیادہ آمدنی پاکستان واپس لانے پر آمادہ کیا۔
پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (P@SHA) کے حالیہ سروے کے مطابق 62 فیصد آئی ٹی کمپنیاں اس وقت خصوصی غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹس رکھتی ہیں۔ مالی سال 2025 میں ایک اہم پیش رفت یہ بھی ہوئی کہ اسٹیٹ بینک نے برآمدی آئی ٹی کمپنیوں کے لیے "ایکوئٹی انویسٹمنٹ ابروڈ (EIA)” کے نام سے ایک نیا زمرہ متعارف کرایا، جس کے تحت وہ اپنے حاصل شدہ زرمبادلہ کا 50 فیصد بیرونِ ملک کاروباری شراکت داری یا ذیلی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال کر سکتی ہیں۔
حکومت نے مالی سال 2026 کے لیے 5 ارب ڈالر کی آئی ٹی برآمدات کا ہدف مقرر کیا ہے۔ تاہم، ٹاپ لائن سیکیورٹیز کا کہنا ہے کہ موجودہ رفتار کو دیکھتے ہوئے آئی ٹی شعبہ اس سال 18 سے 20 فیصد کی شرح سے ترقی جاری رکھ سکتا ہے، جس کی بنیاد پالیسیوں کی بہتری، عالمی وسعت اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر ہے۔