قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد میں ناکامی دہشتگردی کے اضافے کا باعث بن رہی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

پشاور — پاکستان کی فوج کے ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ قومی ایکشن پلان (NAP) پر مؤثر انداز میں عملدرآمد نہ ہونے کے باعث ملک میں خصوصاً خیبرپختونخوا میں دہشتگردی ایک بار پھر سر اٹھا رہی ہے۔
جمعے کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ دہشتگردی میں اضافے کی بنیادی وجہ اندرونی کمزوریاں اور صوبائی سطح پر ناقص طرزِ حکمرانی ہے۔

انہوں نے واضح الفاظ میں کہا، “آج دہشتگردی اس لیے موجود ہے کیونکہ ہم قومی ایکشن پلان پر عمل نہیں کر رہے۔”
ان کا کہنا تھا کہ ملک کو ایک مرتبہ پھر متحد ہو کر اس مسئلے سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔

حکمرانی کی کمزوری اور بڑھتی ہوئی دہشتگردی

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں ہونے والے تقریباً 70 فیصد دہشتگرد حملے خیبرپختونخوا میں ہو رہے ہیں، جہاں صوبائی حکومت “دہشتگردی اور جرائم کے گٹھ جوڑ” میں پھنس چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ غیر قانونی سرگرمیوں پر قابو پانے میں ناکامی اور قومی ایکشن پلان پر جزوی عملدرآمد نے انتہا پسندی کو فروغ دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا، “جب پاک افغان سرحد کو بند کرنے کی تجویز دی گئی تو کچھ بااختیار لوگ اس کے خلاف کھڑے ہوگئے تاکہ اپنے مجرمانہ مفادات کا تحفظ کر سکیں۔ اسی رویے نے قانون شکنی اور دہشتگردی کو پنپنے کا موقع دیا۔”

ڈی جی آئی ایس پی آر نے یاد دلایا کہ قومی ایکشن پلان آرمی پبلک اسکول (APS) کے سانحے کے بعد تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاقِ رائے سے تشکیل دیا گیا تھا۔
انہوں نے سوال اٹھایا، “سب نے اس پر اتفاق کیا تھا، مگر کیا واقعی اس پر عمل کیا جا رہا ہے؟”
ان کا کہنا تھا کہ 2021 میں کیے گئے وعدوں کے باوجود منصوبے پر عملدرآمد سست روی کا شکار ہے اور کئی اہم نکات کو نظرانداز کر دیا گیا۔ “سیاسی عزم کی کمی نے ہمیں آج اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے۔”

فوجی کارروائیاں اور اعداد و شمار

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ 2024 میں خیبرپختونخوا میں 14,535 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کیے گئے جن میں 769 دہشتگرد مارے گئے، جن میں 58 افغان شہری بھی شامل تھے۔
ان کارروائیوں کے دوران 272 فوجی و ایف سی اہلکار، 140 پولیس اہلکار اور 165 عام شہری شہید ہوئے۔

2025 میں (15 ستمبر تک) 10,115 آپریشنز کے دوران 970 دہشتگرد ہلاک ہوئے جبکہ 311 فوجی جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔
ملک بھر میں اب تک 57,320 آپریشنز کیے گئے، جن میں سے 70 فیصد واقعات خیبرپختونخوا میں پیش آئے۔

انہوں نے کہا، “خیبرپختونخوا اور بلوچستان دہشتگردی کے خلاف جنگ کے اصل میدان ہیں۔”
ساتھ ہی مقامی عوام اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

افغانستان کا کردار اور سرحد پار دہشتگردی

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشتگردی کی جڑیں صرف سرحد پار نہیں بلکہ پاکستان کے اندرونی نظامِ حکمرانی کی ناکامیوں میں بھی پیوست ہیں۔ تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ افغانستان آج بھی پاکستان مخالف عناصر کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا، “ہم افغانستان کے ساتھ تاریخی اور ثقافتی تعلقات رکھتے ہیں، مگر ہم یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو۔”

انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران ثبوتوں کے ساتھ دکھایا کہ کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) کے کئی اہم رہنما جیسے مفتی نور ولی محسود، اکرام اللہ محسود اور ہدایت اللہ اب بھی افغانستان میں سرگرم ہیں۔
ان کے مطابق، اب ٹی ٹی پی میں افغان شہریوں کی تعداد خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل چوہدری نے بتایا کہ افغانستان میں چھوڑے گئے امریکی اسلحے اور سازوسامان کی مالیت 7.2 ارب ڈالر ہے، جس کا ایک بڑا حصہ اب پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا، “ہم افغانستان کے ساتھ مختلف سطحوں پر بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں، لیکن دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں سے نرمی برتنا کبھی ہماری پالیسی نہیں رہی۔”

عدالتی نظام پر سخت تنقید

ڈی جی آئی ایس پی آر نے عدالتی نظام پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ سیکیورٹی فورسز ہزاروں کامیاب کارروائیاں کر چکی ہیں، مگر عدالتوں نے دہشتگردی کے مقدمات میں ایک بھی مؤثر سزا نہیں سنائی۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت 4,683 دہشتگردی کے مقدمات زیرِ سماعت ہیں، لیکن انصاف کا پہیہ سست روی کا شکار ہے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا، “جھوٹی داستانیں پھیلتی جا رہی ہیں جبکہ عدالتی نظام خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔”
ان کا کہنا تھا، “آپ کی ناقص حکمرانی کا خلا ہمارے شہداء کے خون سے پُر ہو رہا ہے۔”

قومی ذمہ داری اور سیاسی عزم

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے خبردار کیا کہ دہشتگردی کے مسئلے کو سیاسی رنگ دینا اور قومی اتفاقِ رائے سے منہ موڑنا ملک کی سلامتی کے لیے خطرناک ہے۔
انہوں نے کہا، “غیر ریاستی عناصر سے مذاکرات کی بات کرنا دراصل حکومتی ناکامی کا اعتراف ہے۔”

انہوں نے زور دیا کہ قومی ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق مکمل عملدرآمد کیا جائے اور سیاسی، عدالتی و انتظامی ادارے ایک صفحے پر آئیں، تب ہی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابی ممکن ہے۔

آخر میں ان کا کہنا تھا، “اسٹیٹس کو اب برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ملک میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے فیصلہ کن اقدامات ناگزیر ہیں۔”

More From Author

پاکستان کی قومی مصنوعی ذہانت (AI) پالیسی ایک اسمارٹ اور جامع مستقبل کی جانب قدم

پاکستان نے افغانستان سے سرحد پار دہشت گردی روکنے کا مطالبہ کیا، بھارت سے بڑھتے تعلقات پر گہری نظر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے