اسلام آباد: پاکستان اور سعودی عرب ایک تاریخی پاکستان۔سعودی اقتصادی راہداری کے قیام کی جانب بڑھ رہے ہیں ایک ایسا منصوبہ جو جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی رابطے کی نئی سمت متعین کر سکتا ہے۔
یہ مجوزہ راہداری چین۔پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کی طرز پر تیار کی جا رہی ہے، جس کا مقصد سعودی عرب کے ویژن 2030 کو پاکستان کی ترقیاتی ترجیحات سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ حکومتی عہدیداروں کے مطابق، یہ منصوبہ سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کے تبادلے کے بے شمار امکانات پیدا کرے گا۔
اس منصوبے کو عملی شکل دینے کے لیے وفاقی حکومت نے ایک 18 رکنی اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی قائم کی ہے جو پاکستان۔سعودی عرب اقتصادی فریم ورک کے تحت مذاکرات کی نگرانی کرے گی۔ یہ کمیٹی وزیراعظم شہباز شریف کی منظوری سے تشکیل دی گئی ہے، جسے روایتی شعبوں جیسے دفاع اور توانائی سے آگے بڑھ کر ماحولیاتی تحفظ اور موسمیاتی استحکام جیسے نئے میدانوں میں تعاون کے فروغ کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
کمیٹی کی مشترکہ سربراہی وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی سینیٹر مصدق مسعود ملک اور اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کے نیشنل کوآرڈینیٹر لیفٹیننٹ جنرل سرفراز احمد کریں گے۔ اس میں اقتصادی امور، تجارت، توانائی، خوراک، آئی ٹی اور مواصلات کے وفاقی وزرا سمیت اسٹیٹ بینک، ایف بی آر، ایس ای سی پی اور پاکستانی سفارتخانہ ریاض کے اعلیٰ نمائندے شامل ہیں۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق دونوں شریک چیئر مین سعودی حکام کے ساتھ تیز رفتار مذاکرات کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دیں گے، جبکہ تمام ارکان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 6 اکتوبر 2025 سے اپنی دستیابی یقینی بنائیں۔ ایس آئی ایف سی کو کمیٹی کے انتظامی اور عملی امور کی سہولت فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اس منصوبے سے متعلق اجلاسوں کے سفر کی منظوری صرف ایک گھنٹے کے اندر دی جائے گی — جو حکومتی سطح پر غیر معمولی سنجیدگی کو ظاہر کرتی ہے۔
کمیٹی کو ضرورت پڑنے پر مزید اراکین شامل کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے، جبکہ کارکردگی رپورٹس ہر پندرہ دن بعد وزیراعظم کو پیش کی جائیں گی تاکہ منصوبے کی پیش رفت مسلسل برقرار رہے۔
نئے فریم ورک کے تحت پاکستان سعودی عرب سے تیل صاف کرنے اور زراعت کے شعبوں میں “بائے بیک ماڈل” کے ذریعے نئی سرمایہ کاری حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان اپنی برآمدات میں اضافہ کر کے 3 ارب ڈالر کے تجارتی خسارے میں کمی لانے کی کوشش کرے گا جو اس وقت سعودی عرب کے حق میں ہے۔ تقریباً ایک دہائی سے التوا کا شکار آئل ریفائنری منصوبہ بھی دوبارہ ایجنڈے میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف اکتوبر کے آخر میں سعودی عرب کا دورہ کریں گے، جہاں وہ اقتصادی معاہدوں کو حتمی شکل دینے کے لیے اعلیٰ سطحی مذاکرات میں شرکت کریں گے۔
یہ اقتصادی پیش رفت گزشتہ ماہ ہونے والے تاریخی "اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ” کے بعد سامنے آئی ہے، جو وزیراعظم شہباز شریف کے دورۂ ریاض کے دوران سعودی ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان کی دعوت پر طے پایا تھا۔ اس معاہدے میں واضح کیا گیا ہے کہ “کسی ایک ملک پر ہونے والا حملہ دونوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔”
ماہرین کے مطابق دفاعی معاہدہ اور مجوزہ اقتصادی راہداری دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں نئے دور کا آغاز ہیں — جو نہ صرف علاقائی استحکام بلکہ اقتصادی ترقی اور تزویراتی تعاون کے ایک مضبوط شراکتی باب کی بنیاد رکھیں گے۔