کراچی: کئی برسوں کی غیر یقینی صورتحال کے بعد بالآخر پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) نے برطانیہ کے لیے اپنی براہِ راست پروازوں کا دوبارہ آغاز کر دیا ہے، جس سے مسافروں کو طویل انتظار کے بعد بڑی سہولت میسر آ گئی ہے۔ یہ سروس 25 اکتوبر سے شروع ہوگی، جس کے تحت ابتدائی طور پر اسلام آباد سے مانچسٹر کے لیے ہفتے میں دو پروازیں چلائی جائیں گی۔
ایئرلائن کے مطابق، پرواز ہر ہفتہ اور منگل دوپہر 12 بجے اسلام آباد سے روانہ ہوگی اور شام 5 بجے مانچسٹر پہنچے گی۔ واپسی کی پرواز مانچسٹر سے شام 7 بجے اڑے گی اور اگلی صبح 7 بجے اسلام آباد لینڈ کرے گی۔
پی آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اس روٹ کو بتدریج وسعت دی جائے گی اور دوسرے مرحلے میں لندن اور برمنگھم کے لیے بھی پروازیں شروع کی جائیں گی۔ بکنگز کا آغاز ہوچکا ہے اور مسافروں کے لیے انتہائی مناسب کرایوں کا اعلان کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس بحالی کے بعد مسافروں کو صرف آٹھ گھنٹے میں منزل تک پہنچایا جائے گا، جب کہ ماضی میں کنیکٹنگ پروازوں کے باعث یہ سفر 15 گھنٹے میں مکمل ہوتا تھا۔
پاکستان کے ہائی کمشنر برائے برطانیہ ڈاکٹر محمد فیصل نے لندن میں اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے پی آئی اے کو فارن ایئرکرافٹ آپریٹنگ پرمٹ جاری کر دیا ہے، جو پروازوں کی بحالی کے لیے آخری دستاویز درکار تھی۔ اس سے قبل پی آئی اے کو تھرڈ کنٹری آپریٹر کی منظوری بھی مل چکی تھی۔
ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ پروازوں کی بحالی نہ صرف برطانیہ میں مقیم 17 لاکھ پاکستانیوں کے لیے سہولت فراہم کرے گی بلکہ دونوں ملکوں کے عوام کو مزید قریب لانے میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے برطانوی سی اے اے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تعلقات کے فروغ کے لیے خوش آئند ہے۔
اس طویل انتظار کے بعد پی آئی اے ایک بار پھر پاکستان اور برطانیہ کے درمیان ایک اہم فضائی رابطے کے طور پر سامنے آرہی ہے، جو مسافروں کو سہولت اور کم خرچ سفر فراہم کرے گی۔