کراچی — جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی پر قائم متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی ایک کارگو ہینڈلنگ کمپنی پر الزام لگایا گیا ہے کہ اس کے عملے نے کسٹمز اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت سے گزشتہ 18 ماہ کے دوران درآمدی سامان کی بڑے پیمانے پر چوری اور اسمگلنگ کی، جس کی مالیت ایک ارب روپے سے زائد بتائی جا رہی ہے۔
کسٹمز کلیکٹریٹ ایئرپورٹ کے مطابق کمپنی کے عملے کے خلاف دو مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ ایک خاتون ملازمہ کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ ایک مرد ملازم مفرور قرار دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ قیمتی سامان کو جعلی دستاویزات کے ذریعے “گھوسٹ کمپنیوں” تک پہنچایا گیا، تاکہ محصولات اور ڈیوٹیز ادا نہ کرنی پڑیں۔
کسٹمز حکام کے مطابق اب تک کم از کم چھ کنسائنمنٹس کی نشاندہی ہوچکی ہے جو جعلی کاغذات پر کارگو شیڈ سے نکالی گئیں۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ سامان زیادہ تر الیکٹرانکس پر مشتمل تھا، جس کی مالیت تقریباً ایک ارب روپے لگائی گئی ہے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ چوری کیے گئے تمام سامان کا مکمل تخمینہ ابھی باقی ہے۔
تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ جعل سازوں نے قانونی طور پر کلیئر ہونے والے کنسائنمنٹس کے اصلی "جی ڈی نمبر” چرا کر انہیں جعلی اندراجات کے لیے استعمال کیا۔ ایک کیس میں جی ڈی نمبر KAPF-HC 61625، جو 12 اپریل 2025 کو ایک فارماسیوٹیکل امپورٹ کے لیے جاری ہوا تھا، جعلی طور پر استعمال کیا گیا۔ اسی طرح دوسرا جعلی جی ڈی نمبر KPAF-HC-62714 بھی ایک اور فارماسیوٹیکل شپمنٹ سے لیا گیا۔
ذرائع نے اس بات پر حیرانی ظاہر کی کہ اتنے بڑے پیمانے پر 18 ماہ تک جاری رہنے والی چوری کس طرح کسٹمز حکام کی نظروں سے اوجھل رہی۔ “یہ تقریباً ناممکن ہے کہ ایئر فریٹ یونٹ پر تعینات کسٹمز اہلکار اس غیرقانونی سرگرمی سے لاعلم رہے ہوں۔ یہ سب کچھ اندرونی ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں تھا،” ایک ذریعے نے کہا۔
کسٹمز کلیکٹریٹ نے ایف آئی آرز میں یو اے ای کی اس کارگو کمپنی، درآمد کنندگان اور نامعلوم ساتھیوں کو نامزد کیا ہے۔ یہ پہلا اسکینڈل نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی کراچی ایئرپورٹ کے کسٹمز ویئرہاؤس سے قیمتی موبائل فونز غائب کیے گئے تھے لیکن نہ تو ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی اور نہ ہی مال برآمد کیا گیا۔