لندن:
فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا اشتہارات سے پاک ورژن متعارف کرانے جا رہی ہے، تاہم اس سہولت کے لیے صارفین کو ماہانہ فیس ادا کرنا ہوگی۔
رپورٹس کے مطابق برطانیہ میں ویب پر استعمال کرنے والے صارفین کو ماہانہ 2.99 پاؤنڈ دینا ہوں گے، جبکہ موبائل فون سے رسائی حاصل کرنے والے صارفین کو اس سے کچھ زیادہ یعنی 3.99 پاؤنڈ ادا کرنا ہوں گے۔ اس سبسکرپشن کے ذریعے صارفین بغیر اشتہارات کے براؤزنگ کر سکیں گے، جبکہ جو صارفین یہ سہولت نہیں لیں گے وہ معمول کے مطابق مفت ایپ استعمال کرتے رہیں گے جس میں اشتہارات دکھائے جائیں گے۔
کمپنی کے ترجمان کے مطابق یہ نیا ماڈل آنے والے ہفتوں میں مرحلہ وار متعارف کرایا جائے گا۔ ترجمان نے یہ بھی واضح کیا کہ سبسکرپشن لینے والے صارفین کو ویڈیوز کے دوران کوئی اشتہار نہیں دکھایا جائے گا اور نہ ہی ان کا ذاتی ڈیٹا ہدفی اشتہارات کے لیے استعمال ہوگا۔
یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب میٹا کو یورپی ریگولیٹرز کی جانب سے سخت نگرانی کا سامنا ہے۔ رواں برس یورپی کمیشن نے کمپنی پر 20 کروڑ یورو کا جرمانہ عائد کیا تھا، یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہ میٹا نے یورپی یونین میں سبسکرپشن ماڈل متعارف کرا کے ’’ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ‘‘ کی خلاف ورزی کی۔ ریگولیٹرز کے مطابق کمپنی کو کم سے کم ذاتی معلومات جیسے عمر، جنس اور مقام کی بنیاد پر اشتہارات کے ساتھ ایک مفت ورژن دینا چاہیے تھا، بجائے اس کے کہ صارفین کی تفصیلی ٹریکنگ پر انحصار کرے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ برطانیہ میں یہ اقدام ایک آزمائشی مرحلہ ثابت ہو سکتا ہے اور امکان ہے کہ مستقبل قریب میں اسے دیگر ممالک تک بھی وسعت دی جائے۔ یہ پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ یورپ میں بڑھتا ہوا ریگولیٹری دباؤ ٹیکنالوجی کمپنیوں کو پرائیویسی، اشتہارات اور صارفین کے انتخاب کے درمیان نئے توازن کی طرف دھکیل رہا ہے۔