اقوام متحدہ — پاکستان نے عہد کیا ہے کہ وہ فلسطین اور مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکا کی تازہ ترین امن کوششوں میں فعال اور تعمیری کردار ادا کرے گا، ایسے وقت میں جب اسرائیل کی جاری فوجی کارروائیوں اور غیر قانونی بستیوں کے توسیعی منصوبوں پر عالمی سطح پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مشرقِ وسطیٰ سے متعلق اجلاس میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ اسلام آباد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں ہفتے پیش کیے گئے منصوبے کا خیر مقدم کرتا ہے۔ یہ تجویز آٹھ او آئی سی اور عرب ممالک کے ساتھ مشاورت سے تیار کی گئی ہے، جس میں جنگ بندی، قیدیوں اور یرغمالیوں کا تبادلہ، اسرائیلی افواج کے بتدریج انخلا، حماس کے غیر مسلح ہونے اور ایک عبوری اتھارٹی کے قیام جیسے اقدامات شامل ہیں جس کی نگرانی ایک بین الاقوامی ادارہ کرے گا۔
سفیر احمد نے کہا، "ہم اس پہل کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور مکمل ذمہ داری اور اتفاقِ رائے کے ساتھ مشاورتی عمل میں شریک ہوں گے۔ ہمارا مقصد واضح ہے: فلسطینی عوام کی مشکلات کا خاتمہ اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ایک جامع، منصفانہ اور پائیدار امن کا حصول۔”
امریکی صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے ہمراہ واشنگٹن میں کہا کہ وہ ایک تاریخی معاہدے کے قریب ہیں، تاہم یہ سب کچھ اس بات پر منحصر ہے کہ آیا حماس اس فریم ورک کو قبول کرتی ہے یا نہیں۔
سلامتی کونسل میں خطاب کے دوران پاکستانی مندوب نے غزہ کی صورتحال کو ناقابلِ برداشت قرار دیا اور کہا کہ اب تک 66 ہزار سے زائد فلسطینی، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں، جاں بحق ہو چکے ہیں۔ "غزہ صرف فضائی حملوں کا شکار نہیں بلکہ اس کے باسیوں کو زمین پر بھی بھوک اور محاصرے نے گھیر رکھا ہے۔” انہوں نے نشاندہی کی کہ گھروں، اسکولوں اور اسپتالوں کو بھی ملبے میں بدل دیا گیا ہے۔
انہوں نے اسرائیل کے متنازعہ "ای-1 بستی منصوبے” پر بھی کڑی تنقید کی اور کہا کہ یہ براہِ راست دو ریاستی حل پر حملہ ہے۔ ان کے بقول، یہ منصوبہ مشرقی یروشلم کو مغربی کنارے سے کاٹ دے گا اور ایک قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے لیے ضروری علاقائی تسلسل کو ختم کر دے گا۔ "یہ اقدامات نہ صرف غیر منصفانہ ہیں بلکہ غیر قانونی بھی ہیں اور بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔”
پاکستانی مندوب نے فوری جنگ بندی، غزہ کی ناکہ بندی کے خاتمے، انسانی امداد تک غیر مشروط رسائی، یرغمالیوں اور قیدیوں کی رہائی، جبری بے دخلی اور بستیوں کے قیام کی روک تھام پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کو اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے اور ایک قابلِ اعتبار سیاسی عمل شروع کرنا ہوگا جو 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنا کر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی ضمانت دے۔
انہوں نے وزیرِاعظم شہباز شریف کے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: "فلسطینی عوام کی حالت زار ہماری عہد کی سب سے دلخراش المیوں میں سے ایک ہے۔ فلسطین کے عوام مزید انتظار نہیں کر سکتے۔ امن کا مقصد اور اس کونسل کی ساکھ کا انحصار ہمارے موجودہ اقدامات پر ہے۔”
سفیر احمد نے اپنے خطاب کے اختتام پر پاکستان کا مؤقف دہراتے ہوئے کہا: "ہم فلسطین کے عوام کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور ایک منصفانہ اور پائیدار امن کے لیے سلامتی کونسل کے اراکین اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھیں گے۔”