ابوظہبی: پاکستان نے ایشیا کپ 2025 کے سپر فور مرحلے میں منگل کی شب شیخ زاید اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اہم مقابلے میں سری لنکا کو پانچ وکٹوں سے شکست دے کر فائنل تک رسائی کی اپنی امیدوں کو زندہ رکھا۔
134 رنز کے ہدف کے تعاقب میں گرین شرٹس نے ابتدا میں مشکلات کا سامنا کیا اور 82 کے مجموعی اسکور پر پانچ وکٹیں گنوا بیٹھے۔ تاہم حسین طلعت اور محمد نواز نے ذمہ دارانہ شراکت قائم کر کے ٹیم کو فتح کی راہ دکھائی۔ طلعت نے 41 گیندوں پر ناقابلِ شکست 58 رنز بنائے جبکہ نواز نے تین شاندار چھکے لگا کر میچ کا پانسہ پلٹ دیا اور پاکستان نے 12 گیندیں باقی ہوتے ہوئے ہدف حاصل کر لیا۔
میچ کے بعد حسین طلعت نے کہا: "منصوبہ یہی تھا کہ جارحانہ کھیلوں، لیکن مجھے کچھ وقت لینا پڑا۔ گرمی اور نمی کی وجہ سے توانائی کم تھی مگر نواز نے شاندار انداز میں اننگز مکمل کی۔ کریڈٹ اسے جاتا ہے۔”
اس سے قبل پاکستانی باؤلرز نے شاندار آغاز کیا۔ شاہین شاہ آفریدی نے پہلی ہی اوور میں دونوں اوپنرز کو پویلین بھیج کر سری لنکا کو دباؤ میں ڈال دیا۔ انہوں نے تین وکٹیں حاصل کیں جبکہ حسین طلعت نے کپتان چریتھ اسالنکا سمیت دو اہم کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ حارث رؤف اور ابرار احمد نے بھی ایک ایک وکٹ لے کر سری لنکا کو 133 رنز تک محدود کر دیا۔
سری لنکن مڈل آرڈر دباؤ برداشت نہ کر سکا اور ونانڈو ہسارنگا اور داسن شناکا سستے میں آؤٹ ہو گئے۔ چند آخری لمحات میں باؤنڈریز کے باوجود ان کا اسکور بڑا چیلنج ثابت نہ ہو سکا۔
پاکستانی کپتان سلمان علی آغا نے فتح پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے باؤلرز کی کارکردگی کو سراہا تاہم بیٹنگ لائن پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا: "یہ مکمل طور پر بہترین میچ نہیں تھا، ابتدائی اوورز میں ہم نے بہت وکٹیں کھو دیں، اس پہ ہمیں کام کرنا ہوگا۔” انہوں نے نئے آسٹریلوی فیلڈنگ کوچ شین میک ڈرموٹ کی محنت کو بھی سراہا۔
سری لنکن کپتان اسالنکا نے شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا: "ہمیں لگا تھا وکٹ ہمارے لیے بہتر ہوگی لیکن پاکستان نے باؤلنگ اور فیلڈنگ میں غیر معمولی کھیل پیش کیا۔ وہ بہتر ٹیم ثابت ہوئی۔”
اس جیت کی اہمیت
اس کامیابی کے بعد پاکستان سپر فور پوائنٹس ٹیبل پر بہتر رن ریٹ کی بنیاد پر بنگلہ دیش کو پیچھے چھوڑ کر دوسری پوزیشن پر آگیا ہے۔ فائنل تک رسائی کی دوڑ اب بھی کھلی ہوئی ہے جہاں بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش بھی مقابلے میں شامل ہیں۔
پاکستان 25 ستمبر کو بنگلہ دیش کے خلاف اگلا میچ کھیلے گا جبکہ بھارت 24 ستمبر کو بنگلہ دیش اور 26 ستمبر کو سری لنکا کا سامنا کرے گا۔
فی الحال پاکستان نے نہ صرف اپنی پوزیشن مستحکم کی ہے بلکہ ایک بار پھر ٹورنامنٹ میں نیا جوش اور اعتماد بھی حاصل کیا ہے۔