ایشیا کپ 2025 کے فائنل تک پاکستان کا سفر بھارت کے خلاف سپر فور کے اہم میچ میں شکست کے بعد مزید پیچیدہ ہوگیا ہے۔ بابر اعظم کی قیادت میں ٹیم اب بھی دوڑ میں شامل ہے لیکن فائنل تک رسائی کا دارومدار زیادہ تر نیٹ رن ریٹ (NRR) اور باقی میچز کے نتائج پر ہوگا۔
اب جبکہ پاکستان کے پاس دو میچ باقی ہیں، مسلسل دونوں فتوحات بھی فائنل میں جگہ یقینی نہیں بنا سکتیں، جبکہ بعض صورتحال میں ایک کامیابی بھی کافی ثابت ہو سکتی ہے۔ معاملہ اب مکمل طور پر آنے والے میچز پر منحصر ہے۔
ممکنہ منظرنامے
اگر بھارت سپر فور کے تمام تینوں میچ جیت جاتا ہے تو پاکستان کی قسمت نیٹ رن ریٹ پر آکر ٹک سکتی ہے۔ مثال کے طور پر، اگر پاکستان بنگلہ دیش کو شکست دے لیکن سری لنکا سے ہار جائے، تو بھارت تین فتوحات کے ساتھ فائنل میں پہنچ جائے گا جبکہ باقی تین ٹیمیں ایک ایک جیت کے ساتھ برابر ہوں گی۔ اس صورت میں دوسرا فائنلسٹ نیٹ رن ریٹ طے کرے گا۔
ایک اور صورت یہ ہو سکتی ہے کہ پاکستان اپنے دونوں میچ، سری لنکا اور بنگلہ دیش کے خلاف جیت جائے، بھارت سری لنکا کو ہرائے لیکن بنگلہ دیش بھارت کو اپ سیٹ کر دے۔ ایسی صورت میں بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش کے دو دو پوائنٹس ہوں گے اور ایک بار پھر فیصلہ نیٹ رن ریٹ سے ہوگا۔
پاکستان کے لیے سب سے آسان راستہ یہ ہوگا کہ بھارت اور پاکستان اپنے باقی تمام میچ جیت لیں۔ اس صورت میں بھارت تین فتوحات کے ساتھ، پاکستان دو کامیابیوں کے ساتھ فائنل میں پہنچے گا، جبکہ بنگلہ دیش ایک اور سری لنکا بغیر کسی جیت کے باہر ہوجائیں گے۔ یوں 26 ستمبر کو پاکستان اور بھارت کے درمیان فائنل کھیلا جائے گا۔
بھارت کی شاندار کارکردگی
پاکستان کی امیدوں کو سب سے بڑا دھچکا اتوار کو دبئی میں لگا، جہاں پاکستان نے پہلے کھیلتے ہوئے 5 وکٹوں پر 171 رنز بنائے لیکن بھارت نے 7 گیندیں باقی رہتے ہدف با آسانی حاصل کر لیا۔ ابھیشیک شرما نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے 39 گیندوں پر 74 رنز بنائے جبکہ شبمن گل نے 28 گیندوں پر 47 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی۔ دونوں کی شراکت نے بھارت کو 6 وکٹوں سے فتح دلائی اور ان کے نیٹ رن ریٹ کو مزید بہتر بنا دیا۔
بنگلہ دیش کی سری لنکا پر سنسنی خیز فتح
دوسرے سپر فور میچ میں بنگلہ دیش نے سری لنکا کو ایک سنسنی خیز مقابلے میں شکست دی۔ 169 رنز کے ہدف کے تعاقب میں بنگلہ دیش نے آخری اوور کی پانچویں گیند پر کامیابی حاصل کی۔ سیف حسن (61) اور توحید ہری دَے (58) کی نصف سنچریاں فتح کی بنیاد بنیں، جبکہ مستفیض الرحمٰن نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے 20 رنز کے عوض 3 وکٹیں حاصل کیں۔ سری لنکا کی جانب سے داسن شاناکا نے 37 گیندوں پر ناقابلِ شکست 64 رنز بنا کر جدوجہد جاری رکھی، مگر ان کی اننگز بھی میچ نہ بچا سکی۔
یہ نتیجہ گروپ میں نئی پیچیدگی لے آیا ہے اور اب لگتا ہے کہ فائنل تک رسائی کا فیصلہ نیٹ رن ریٹ ہی کرے گا۔
باقی شیڈول
- 23 ستمبر: پاکستان بمقابلہ سری لنکا (ابوظہبی)
- 24 ستمبر: بھارت بمقابلہ بنگلہ دیش (دبئی)
- 25 ستمبر: پاکستان بمقابلہ بنگلہ دیش (دبئی)
- 26 ستمبر: بھارت بمقابلہ سری لنکا (دبئی)