پاکستان کی معیشت کے لیے طویل عرصے سے ترسیلات زر ایک سہارا سمجھی جاتی رہی ہیں، جو زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ لیکن یہ سوال اب شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا ترسیلات پر بھاری سبسڈی دینا واقعی ایک پائیدار پالیسی ہے؟ خاص طور پر جب اس مقصد کے لیے ہر سال تقریباً 70 کروڑ ڈالر خرچ کیے جاتے ہیں۔
برآمدات بمقابلہ سبسڈی
ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ اس خطیر رقم کو سبسڈی میں ضائع کرنے کے بجائے اگر برآمدات بڑھانے پر صرف کیا جائے تو اس کے کہیں زیادہ پائیدار اور بہتر نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ اس حکمت عملی سے نہ صرف زرمبادلہ میں اضافہ ہوگا بلکہ معیشت بیرونی جھٹکوں کا مقابلہ کرنے کے قابل بھی ہو جائے گی۔
کچھ ممکنہ اقدامات یہ ہو سکتے ہیں:
- بیرونِ ملک افرادی قوت کو تربیت اور سبسڈی دے کر زیادہ مسابقتی بنانا۔
- اسٹیٹ بینک کی کم لاگت والی ایکسپورٹ فنانسنگ سہولتوں کو وسعت دینا۔
- مشینری اور خام مال پر ٹیکس اور ڈیوٹی میں کمی تاکہ پیداواری لاگت گھٹ سکے۔
- برآمدی صنعتوں کے ملازمین پر انکم ٹیکس کی شرح کم کرنا تاکہ انہیں مزید مراعات مل سکیں۔
- ایسے مشترکہ منصوبوں (جوائنٹ وینچرز) کی حوصلہ افزائی کرنا جو برآمدات بڑھائیں اور درآمدی انحصار کم کریں۔
- برآمد کنندگان کے لیے خصوصی کارپوریٹ ٹیکس نظام متعارف کروانا۔
- فری لانسرز اور ہائی اینڈ ڈیجیٹل ورکرز کے لیے ہنر مندی کے پروگرام شروع کرنا تاکہ عالمی منڈی سے زیادہ حصہ لیا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق اگر ان اقدامات کو مؤثر انداز میں نافذ کیا جائے تو پاکستان کی برآمدات سالانہ 4 سے 6 ارب ڈالر تک بڑھ سکتی ہیں، جو ترسیلات پر سبسڈی سے حاصل ہونے والے اضافی فوائد سے کہیں زیادہ ہیں۔
نتیجہ
اس میں شک نہیں کہ ترسیلات زر پاکستان کی معیشت کے لیے اہم ستون ہیں۔ لیکن اتنی بھاری سبسڈی دینا نہ تو مؤثر ہے اور نہ ہی دیرپا۔ پاکستان کو اپنی معاشی حکمت عملی کا رخ برآمدات کی طرف موڑنا ہوگا کیونکہ حقیقی ترقی اور طویل المدتی استحکام کا راستہ وہیں سے نکلتا ہے۔
پالیسی سازوں کے لیے پیغام بالکل واضح ہے: وقتی سکون کے لیے مہنگی سبسڈیز خریدنے کے بجائے ہمیں اپنی برآمدی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری کرنی ہوگی، تاکہ پاکستان عالمی منڈی میں پائیدار طور پر مقابلہ کرسکے اور ترقی کی راہ پر آگے بڑھ سکے۔